بھارت ہاتھ ملتا رہ گیا ، ایرانی صدر نے گوادر بندرگاہ کو چاہ بہار سے ملانے کی خواہش ظاہر کردی، دورہ پاکستان کی دعوت بھی قبول کر لی

  منگل‬‮ 23 اپریل‬‮ 2019  |  14:42

اسلام آباد (این این آئی/مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کے دوران ایرانی صدر نے گوادر بندرگاہ کو ریل کے ذریعے چاہ بہار سے ملانے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور ایران نے اپنی سرزمین کسی کیخلاف استعمال نہ ہونے دینے پر اتفاق کرتے ہوئے سرحد کے تحفظ کیلئے مشترکہ فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات پر کسی تیسرے ملک کو اثر انداز نہیں ہونے دیا جائیگا،اقتصادی تعلقات کے سلسلے میں بارٹر کمیٹی تشکیل دی جائیگی تاکہ دونوں ممالک کی ضروریات کے پیش نظر اشیاء ودیگر چیزوں


کا تبادلہ کیا جاسکے ۔پیر کو وزیراعظم عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی کے درمیان ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جس کے بعد صحت کے شعبے میں پاکستان اور ایران تعاون کے اعلامئے پر دستخط کی تقریب ہوئی۔اعلامئے کی تقریب کے بعد وزیراعظم عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔پریس کانفرنس سے خطاب کرت ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے اہم معاملات سمیت خطے کو درپیش مسائل پر بات چیت ہوئی، پاکستان ایران کے تعلقات میں مزید وسعت پر بھی تبادلہ خیال ہوا ہے انہوں نے کہا کہ ملاقا ت میں سب سے اہم معاملہ جو گفتگو میں زیر غور آیا ہے ہے وہ یہ کہ دونوں ممالک برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کو مستحکم کریں گے اور دونوں ممالک کے تعلقات پر کسی تیسرے ملک کو اثر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔ایرانی صدر نے کہا کہ ملاقات میں سرحدی معاملات پر بھی گفتگو کی گئی ہے اور سرحدی محافظین اور سرحد کی حفاظت کیلئے جوائنٹ ریپڈ ری ایکشن فورس کے قیام پر بھی اتفاق ہوا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے پر بھی غور کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت پاکستان کی تیل اور گیس کی ضرورت پوری کرنے کیلئے تیار ہے اور اس ضمن میں پاکستانی سرحد کے ساتھ پائپ لائن کی تعمیر کیلئے ضروری اقدامات اٹھائے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کیلئے بجلی کی برآمدات 10 گنا تک بڑھانے کیلئے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ اقتصادی تعلقات کے سلسلے میں بارٹر کمیٹی کی تشکیل پر اتفاق ہوا ہے تا کہ دونوں ممالک کی ضروریات کے پیش نظر اشیاء اور دیگر چیزوں کا تبادلہ کیا جاسکے۔ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو وسعت دینے کیلئے اہم موڑ ثابت ہوگا، اس کیساتھ انہوں نے تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے گوادر اور چا بہار بندرگاہ کے درمیان لنک قائم کرنے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں علاقائی اور خطے کی سلامتی کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی اور افغان تنازع کے حل پر بھی زور دیا گیا ہے اس کیساتھ امریکا کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب اور گولان ہائیٹس پر اختیار کئے گئے موقف پر بھی گفتگو ہوئی ہے ۔ ایرانی صدرنے کہا کہ ترکی ایران اور پاکستان کے تعلقات بہت اچھے ہیں جنہیں مزید فروغ دینے اور تینوں ممالک کے درمیان ریلوے کا نظام قائم کرنے پر بھی خصوصی گفتگو ہوئی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے اس بات پر زور دیاہے کہ وہ کسی بھی فوجی اتحاد حصہ نہیں بنیں گے اور دونوں ممالک خطے میں امن و استحکام کیلئے بھی پرعزم ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں پرتپاک استقبال پر ایرانی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے انسدادِ دہشت گردی کے سلسلے میں تعاون کو فروغ دینے اور اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ دنوں بلوچستان میں دہشت گردی کے نتیجے میں 14 سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے واقعات دونوں ممالک کے تعلقات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران آنے کا مقصد سیکیورٹی معاملات پر بات کرنا تھا تاکہ دہشتگردی کے اس مسئلے پر قابو پایا جاسکے۔وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جو دہشتگردی کا سب سے زیادہ نشانہ بنا، پاکستان نے کسی بھی ملک کے مقابلے میں دہشتگردی کا سب سے زیادہ سامنا کیا ہے، ہمیں علم ہے کہ ایران بھی دہشتگردی سے متاثر ہے، دونوں ممالک میں اتفاق ہے کہ اپنی سرزمین کسی کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے معاملات دونوں ملکوں میں خلیج پیدا کرسکتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پوری سیاسی قیادت اس بات پر متفق ہے کہ پاکستان میں کسی بھی عسکری گروہ کو اجازت نہیں دی جائیگی اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کے خلاف پاکستانی سرزمین کا استعمال کرنے دیا جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم پاکستانی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ ایرانی سرزمین سے بھی پاکستان کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے دونوں ممالک کے سیکیورٹی چیف ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین نے افغانستان میں جاری تنازعات کے پرامن حل میں مدد فراہم کرنے کیلئے تعاون کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جنگ سے پاکستان اور ایران دونوں متاثر ہوئے ہیں، افغانستان میں امن ایران اور پاکستان دونوں کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھے تعلقات اور تجارت بڑھنے سے دونوں ممالک میں خوشحالی اور روزگار بڑھے گا، خطے میں امن اور استحکام کی ضرورت ہے اس سے ہی تجارت بڑھے گی، یقین ہے کہ باہمی تجارت کے بڑھنے سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا، باہمی تجارت کیلئے بارٹر کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا گیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس طویل تنازع کا عسکری حل ممکن نہیں اور صرف سیاسی تصفیے کے ذریعے ہی مسئلہ کشمیر کو حل کیا جاسکتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے، اسرائیل کی جانب سے اْن کے حقوق غضب کیے جارہے ہیں جبکہ عالمی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یروشلم میں امریکی سفارتخانہ قائم کردیا گیا ہے۔

موضوعات:

loading...