اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

پانی کی جنگ عروج پر، بھارت نے پاکستان آنیوالے اہم ترین دریا کا پانی مکمل روکنے کیلئے ڈیم پر کام تیز کردیا،2023ءمیں اس دریا کا کیا حال ہوگا؟ انتہائی تشویشناک انکشافات‎

datetime 10  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے راوی کے پاکستان کی طرف بہنے والے پانی کو روکنے کا فیصلہ کر لیا، ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق مادھو پور ہیڈ ورکس سے پاکستان کی طرف رواں دریائے راوی کے پانی کو روک کر بھارتی پنجاب اور مقبوضہ جموں کے درمیان شاہ پور کنڈی کے مقام پر اس متنازعہ ڈیم کو بنایا جائے گا،

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کے منصوبے بہت خطرناک عزائم کے آئینہ دار ہیں اور بھارت کی آبی جارحیت ایٹمی جنگ سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، آنے والے وقت میں پوری دنیا میں ویسے ہی پانی بہت کم ہو رہا ہے، خصوصاً اس خطے میں کم ہو رہا ہے، شاہ پور کنڈی کے مقام پر متنازعہ ڈیم کو 2023ء تک مکمل کیا جائے گا، اس ڈیم پر ابتدائی کام 2001ء میں شروع کیا گیا تھا اور اس کی تکمیل پر کل 45 ارب لاگت آئے گی، سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد کشمیر منظور حسین گیلانی نے کہا کہ اس سے سندھ طاس معاہدے کو شکست ہو گی، ورلڈ بینک کی گارنٹی کو بھی شکست ہو جائے گی، یہ ڈیم لامحالہ ہمیں نقصان پہنچائے گا کیونکہ جب ہندوستان کو پانی کی ضرورت نہ ہو تو وہ اپنی مرضی سے پانی کھول دے اور جب اسے ضرورت ہو تو پانی روک لے، جب ہمیں ضرورت ہو تو وہ بند کرکے رکھ دے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ دریائے راوی پر بننے والے اس متنازعہ ڈیم سے 206 میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کے علاوہ اس کے پانی سے بھارتی پنجاب کی 32 ہزار 170 ہیکٹرز زرعی اراضی کو بھی سیراب کیا جائے گا، اس متنازعہ ڈیم کی تعمیر سے جہاں سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے وہاں پاکستان کی زراعت بھی اس سے متاثر ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…