اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

اعظم سواتی کے بیٹے کی درخواست!2 خواتین سمیت ایک ہی خاندان کے 5 افراد گرفتار،جانتے ہیں ان افراد نے ایسی کیا حرکت کی جو انہیں اتنی بڑاسزا دی گئی؟وفاقی وزیر کا موقف بھی سامنے آگیا

datetime 29  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر اعظم سواتی کے بیٹے کی درخواست پر پولیس نے 15 سالہ بچی، چوتھی جماعت کے طالبعلم 12 سالہ صلاح الدین اور عمر رسیدہ خاتون سمیت 5 افراد کو گرفتار کرلیا۔آئی جی اسلام آباد جان محمد کی تبدیلی کے بعد وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی کے بیٹے کی درخواست پر مقدمہ تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج کیا گیا۔

اعظم سواتی کے بیٹے نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ ملزمان نے اپنے مویشی ہمارے باغات میں چھوڑ دیئے اور منع کرنے پر ملزمان نے ملازمین پر کلہاڑیوں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا۔ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے گن مین سے کلاشنکوف کے میگزین چھینے اور زدوکوب کیا، پولیس نے ملزمان کیخلاف اعظم سواتی کے فارم پر ان کے ملازمین پر حملے کی ایف آئی آر درج کی۔پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ شہزاد ٹاؤن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خیمہ بستی سے چوتھی جماعت کے طالبعلم 12 سالہ صلاح الدین، اس کی والدہ اور بہن سمیت 5 افراد کو گرفتار کیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق نوعمر صلاح الدین کو اس کی والدہ اور بہن کے ہمراہ جیل بھیجوا دیا گیا ٗ پولیس نے 12 سالہ بچے کے والد نیاز اور بڑے بھائی احسان اللہ کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق سابق آئی جی اسلام آباد جان محمد نے مبینہ طور پر اسی کیس میں کارروائی سے گریز کیا تھا جس کے باعث گزشتہ روز ان کا تبادلہ کردیا گیا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینیٹر اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ تھانہ شہزاد ٹاؤن پولیس نے جن افراد کو گرفتار کیا وہ ہمارے ملزم ہیں اور گرفتار ملزمان نے ہمارے ملازمین پر حملہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ملزمان کی گائے نے ہمارے فارم ہاؤس میں پھل دار درختوں کو نقصان پہنچایا ٗہم نے کسی بچے کے خلاف مقدمہ درج نہیں کرایا اور پولیس نے بھی بتایا کہ انہوں نے کسی بچے کو گرفتار نہیں کیا۔

اعظم سواتی نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد پولیس کوبار بار فون کرتا رہا لیکن انہوں نے فون نہیں سنا، میرے کیس میں سیکرٹری داخلہ بھی آئی جی کو فون کرتے رہے مگر انہوں نے فون نہ سنا۔انہوں نے کہاکہ وزیر مملکت داخلہ شہر یار آفریدی نے ذاتی طور پر اس معاملے کو دیکھا، میرے ملازمین پر حملہ ہوا تو قانون کا دروازہ کھٹکھٹایا اور کوئی اثرورسوخ استعمال نہیں کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…