جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کی غریب عوام سے اربوں ڈالر لوٹنے والے یورپ ، دبئی سے دولت نکال کرکن ممالک میں چھپانے لگے؟تہلکہ خیز انکشافات

datetime 1  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن ) پاکستان کی غریب عوام سے اربوں ڈالر لوٹنے والے ملک کی اشرافیہ نے یورپ ، دبئی کے بعد اب افریقی ممالک میں جائیدادیں خریدنا شروع کردی ہیں ۔ ملک کی دولت لوٹنے والوں نے لندن ، پیرس ، امریکہ ، یورپ اور دبئی سے دولت نکال کر افریقہ کے تین ممالک میں اربوں ڈالر کی جائیدادیں خریدی ہیں ان ممالک میں یوگینڈا ، کینیا ، تنزانیہ وغیرہ میں اربوں ڈالر کی جائیدادیں خریدی ہیں بالخصوص یوگینڈا میں کرپٹ مافیا ہزاروں ایکڑز

زمین کے فارم خرید رہے ہیں ایک عام اندازہ کے مطابق دبئی میں پاکستانیوں نے دس ارب ڈالر کی جائیدادیں خرید رکھی ہیں جبکہ لندن ، پیرس ، سوئٹزرلینڈ اور نیویارک ، شکاگو ، لاس اینجلس وغیرہ میں کرپٹ مافیا نے قوم کی دولت لوٹ کر جائیدادیں خریدی ہیں نیب ایف بی آر اور ایف آئی اے کے سرگرم کردار کے بعد اب کرپٹ مافیا اپنی لوٹی ہوئی دولت افریقہ کے ان ممالک میں لے گئے ہیں جہاں کا بینکنگ سسٹم کمزور ہے ذرائع نے بتایا ہے کہ ملک کی دولت لوٹنے والوں میں سرفہرست اعلیٰ افسران بالخصوص شریف خاندان کی آشیرباد سے پنجاب بیورو کریسی اول نمبر پر ہے جبکہ دوسرے نمبر پر سندھ کے حکمران اور بیورو کریسی ہے تیسرے نمبر پر بلوچستان کا حکمران طبقہ اور افسران ہیں جبکہ چوتھے نمبر پر کے پی کے افسران ہیں نواز شریف کے علاوہ 400شخصیات نے قوم کی پانچ سو ارب ڈالر لوٹ کر بیرون ممالک میں آف شور کمپنیاں بنا کر جائیدادیں اور ملز خریدی ہیں سلیم سیف اللہ ، انور سیف اللہ خاندان کی 38آف شور کمپنیاں ہیں اس خاندان کی دولت سب سے زیادہ ہے اس خاندان کی رشتہ داری صدر اسحا ، صدر ایوب سے قریبی رہا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…