ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

الیکشن کی گارنٹی دینا فوج کا کام نہیں ،وقت سے ایک سیکنڈ پہلے بھی حکومت نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم

datetime 23  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(اے این این ) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ الیکشن کی گارنٹی دینا فوج کا کام نہیں ،وقت سے ایک سیکنڈ پہلے بھی حکومت نہیں چھوڑیں گے، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں طے ہوچکاہے کہ انتخابات بروقت ہونے چاہئیں، میں بھی کہہ رہا ہوں الیکشن جولائی میں ہوں گے، پاکستان میں عدلیہ اور میڈیا آزاد نہیں، جج کی تعیناتی سے پہلے اس کے کردار اور کاموں کا بھی پتا ہونا چاہیے کیونکہ ایک دفعہ جج تعینات ہوتا ہے تو پھر جج ہی ریٹائر ہوتا ہے۔

اسلام آباد میں وزیراعظم نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں عدلیہ اور میڈیا آزاد نہیں، جج کی تعیناتی سے پہلے اس کے کردار اور کاموں کا بھی پتا ہونا چاہیے کیونکہ ایک دفعہ جج تعینات ہوتا ہے تو پھر جج ہی ریٹائر ہوتا ہے جب کہ ماضی میں ایسے جج بھی لگائے گئے جو اس عہدے کے اہل نہیں تھے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں طے ہوچکاہے کہ انتخابات بروقت ہونے چاہئیں، میں بھی کہہ رہا ہوں کہ انتخابات جولائی میں ہوں گے لہذا انتخابات کی گارنٹی دینا فوج کا کام نہیں، ایک سیکنڈ پہلے بھی حکومت نہیں چھوڑیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی توڑنے کا اختیار میرے پاس ہے، پارٹی کہے تو اسمبلی توڑ دوں گا، کسی اور کے کہنے پر نہیں توڑوں گا جب کہ یکم جون سے ایک سیکنڈ پہلے بھی ہماری حکومت ختم نہیں ہوگی۔پاک امریکا تعلقات پر انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ 70 سالہ تعلقات ہیں، امریکا سے رابطے اب بھی جاری ہیں۔آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ(ن)کی سیاسی مہم کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نوازشریف آئندہ انتخابات کی مہم میں لیڈ کریں گے۔واضح رہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ روز بھی پارلیمانی رپورٹرز کے وفد سے گفتگو میں کہا تھا کہ مسلم لیگ(ن) نوازشریف کی تصویر کے ساتھ انتخابی مہم چلائے گی کیونکہ ووٹ نوازشریف کو ہی ملتے ہیں۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ججز کا چہرہ عوام کے سامنے آنا چاہیے، جج نے زندگی، موت، اربوں روپے کے مسائل اور تاریخی فیصلے کرنے ہوتے ہیں، کمزور شخص کو جج لگائیں گے تو بھگتنا پڑتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…