ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

شیروانیاں سلوانے والے انہیں الماریوں میں رکھ دیں،آئین میں ٹیکنو کریٹ حکومت کی گنجائش نہیں، نواز شریف اور ضیا الحق کے درمیان تعلق پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی وضاحت سامنے آ گئی

datetime 19  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آئین میں ٹیکنو کریٹ حکومت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، آج بھی اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں تو قبل از وقت انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ، کچھ لوگوں نے شیروانیاں سلوا کر رکھی تھیں مگر انہیں موقع نہیں ملا ، انہیں پیغام دیتا ہوں وہ شیروانیاں اتار کر الماریوں میں رکھ دیں ،انتخابات گرمیوں میں ہی ہونگے۔محمد نواز شریف نے اپنے دور اقتدار میں ملک میں ترقی کی بنیاد رکھی ،جمہوریت کو فروغ دیا ،

ان پر آمریت سے قربت کا تعلق الزام بالکل بے بنیاد ہے۔ایک انٹرویو میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نواز شریف اور ضیا الحق کے درمیان تعلق پر تاریخی جھوٹ بولا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ محمد نواز شریف کا ضیا ء الحق سے تعلق صرف 29مئی سے17اگست1988ء تک تھا اس تعلق پر لوگ تاثر دے رہے ہیں کہ نواز شریف ضیا ء کی آمریت کے دور میں سیاسی افق پر ابھرے ۔ انہوں نے کہا کہ صدر اور وزیر اعلیٰ کا تعلق عموما محدود سا ہوتا ہے ، ضیا ء دور میں کئی لوگ بہت بڑے بڑے عہدوں پر پہنچے اور آج ان لوگوں کی سیاسی حیثیت کیا ہے؟ سب لوگ اس سے واقف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو تجربہ محمد نواز شریف کے پاس ہے وہ بہت کم لوگوں کے پاس ہے۔ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں ملک میں ترقی کی بنیاد رکھی اور جمہوریت کو فروغ دیا ، ان پر آمریت سے قربت کا تعلق الزام بالکل بے بنیاد ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ آئین میں ٹیکنو کریٹ حکومت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، آج بھی اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں تو قبل از وقت انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے شیروانیاں سلوا کر رکھی تھیں مگر انہیں موقع نہیں ملا ، انہیں پیغام دیتا ہوں وہ شیروانیاں اتار کر الماریوں میں رکھ دیں کیونکہ انتخابات گرمیوں میں ہی ہونگے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ممبران اسمبلی کو ٹیلی فون کالز موصول ہوئیں جبکہ ان کی نگرانی کے حوالے سے بھی خبریں سامنے آئیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وزیر داخلہ احسن اقبال کو اس بات کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس قسم کے کام ملکی سیاست میں ہوتے رہے ہیں اور ہمیں ان سے سبق لینا چاہیے ۔ انہں نے کہا کہ ممبران اسمبلی اگر اس حوالے سے بیانات دیتے ہیں تو وہ ان کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اب اس قسم کے معاملات سیاست میں نہیں ہو رہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…