اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

دسمبر2014ء کا دن ملکی تاریخ میں سیاہ یوم کے طور پر یاد رکھا جائیگا،وزیر اعظم

datetime 16  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ 16دسمبر2014ء کا دن ملکی تاریخ میں اس سیاہ یوم کے طور پر یاد رکھا جائیگا جب بربریت اور سفاکیت کے علمبرداوں کی جانب سے آرمی پبلک سکول پشاور میں معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا ٗ حصولِ تعلیم کیلئے جانے والے معصوم جب واپس لوٹے تو اْن میں سے بہت ساروں نے شہادت کی قبا اوڑھ رکھی تھی

اور اْن کی ایک بڑی تعداد زخموں سے چور اور ذہنوں میں بزدل دشمن کی سفاکیت کے نقوش لیے ہوئے تھے ٗ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم نے جان ومال کی جو قربانیاں پیش کی ہیں وہ شاید ہی کسی دوسری قوم نے دی ہوں ۔ سانحہ اے پی ایس کی یاد کے موقع پر وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان شاہد خاقان عباسی نے اپنے پیغام میں کہاکہ سانحہ اے پی ایس نے پاکستانی قوم میں دہشتگردی کے خلاف تاریخ ساز وحدت کو جنم دیا ٗ اس دل سوز اور دل خراش واقعے کے نتیجے میں پوری قوم نے کامل یکسوئی کے ساتھ دہشت گردی کے عفریت کے خلاف فیصلہ کن معرکہ لڑنے کا مصمم ارادہ کرلیا ۔نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہماری بہادر افواج اور سیکورٹی اداروں نے دہشت گردوں کو شکستِ فاش دی ۔ اِن کی دِن رات محنت اور قربانیوں کی بدولت آج پاکستان میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے ۔ معصوموں کا خون رنگ لایا ہے اور آج پاکستانی قوم اقوامِ عالم میں وہ واحد قوم نے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی ہے ۔ سانحہ اے پی ایس کے نتیجے میں ہم سے بچھڑ جانے والوں کی یاد ایک کسک بن کر ہمارے دلوں میں ہمیشہ موجود رہے گی ۔ آج کا دن ہمیں یاد دلاتا رہے گا کہ وطنِ عزیز کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے ہم نے اپنے کیسے کیسے ہیرے قربان کیے ۔ یہ دن ان معصوموں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور اْن کے غم زدہ والدین کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کا دن ہے ۔ قوم ان معصوموں کی لازوال

قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی ۔انہوںنے کہاکہ آج کا یہ دن دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کے اعادے کا دن بھی ہے ٗیہ دن ہمیں متوجہ کرتا رہے گا کہ ہم اپنی صفوں پر نگاہ رکھیں اور خبر دار رہیں کہ کوئی پاکستان میں انتہا پسندی کے بیج نہ بو سکے ۔ انتہا پسندی ہی وہ درخت ہے جس پر دہشت گردی کا زہریلا پھل لگتا ہے ۔پاکستانی قوم

نے اپنے معصوم شہیدوں ، افواجِ پاکستان ، پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور اِس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ شہدا ء کے خون سے لکھے جانے والے اِس باب کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا ٗ آئیں آج ہم یہ عہد کریں کہ ہم سب مل کر پاکستان کو ایک ایسا جمہوری معاشرہ بنائیں گے جہاں مذہب ، فرقہ واریت ، لسانیت ، رنگ ونسل یا کسی بھی عنوان سے تشدد اور انتہا پسندی کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…