جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

کسی قیمت پر دہشت گردوں کودوبارہ سر اٹھانے نہیں دیں گے ،وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ

datetime 15  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)وزیراعظم نوازشریف نے لاہور ، مہمند ایجنسی ، پشاور اور کوئٹہ میں حالیہ دہشت گردحملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی قیمت پر دہشت گردوں کودوبارہ سر اٹھانے نہیں دیں گے ، ملک میں ہر طرح کی دہشت گردی کا قلع قمع کیا جائے گا ، ملکی امن وسلامتی کو درپیش کسی بھی بیرونی خطرے سے ریاستی طاقت سے نمٹا جائے گا،مسلح افواج ، پولیس اور دیگر سول قانون نافذ کرنے والے

اداروں اور شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں، فوجی ، پولیس اور سول اداروں کے آپریشنز کے حاصل کردہ اہداف کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔بدھ کووزیراعظم محمد نوازشریف کی زیر صدارت وزیراعظم ہاؤس میں سلامتی کی صورتحال سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ،قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ،ڈی جی آئی ایس آئی اورڈی جی آئی بی ‘چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر نے شرکت کی ۔ اجلاس میں لاہور ، مہمند ایجنسی ، پشاور اور کوئٹہ میں حالیہ دہشت گردحملوں کی شدید مذمت کی گئی اور ملک کے پر امن مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے قومی ہیروز کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ہرقسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ فوجی ، پولیس اور سول اداروں کے آپریشنز کے حاصل کردہ اہداف کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا ، ریاست کسی قیمت پر دہشت گردوں کو سر اٹھانے نہیں دے گی ۔مسلح افواج ، پولیس اور دیگر سول قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں ۔ امن واستحکام اور خوشحالی کے نظریے نے دہشت گردی کی سوچ کو ناکام بنا دیا ۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ دہشت گردوں کے خلاف ریاستی کاروائیوں کے نتیجے میں فاٹا ،بلوچستان اور کراچی سمیت ملک بھر میں سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے ۔اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک میں ہر طرح کی دہشت گردی کا قلع قمع کیا جائے گا ۔اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ ملکی امن وسلامتی کو درپیش کسی بھی بیرونی خطرے سے ریاستی طاقت سے نمٹا جائے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…