پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

کسی قیمت پر دہشت گردوں کودوبارہ سر اٹھانے نہیں دیں گے ،وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ

datetime 15  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)وزیراعظم نوازشریف نے لاہور ، مہمند ایجنسی ، پشاور اور کوئٹہ میں حالیہ دہشت گردحملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی قیمت پر دہشت گردوں کودوبارہ سر اٹھانے نہیں دیں گے ، ملک میں ہر طرح کی دہشت گردی کا قلع قمع کیا جائے گا ، ملکی امن وسلامتی کو درپیش کسی بھی بیرونی خطرے سے ریاستی طاقت سے نمٹا جائے گا،مسلح افواج ، پولیس اور دیگر سول قانون نافذ کرنے والے

اداروں اور شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں، فوجی ، پولیس اور سول اداروں کے آپریشنز کے حاصل کردہ اہداف کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔بدھ کووزیراعظم محمد نوازشریف کی زیر صدارت وزیراعظم ہاؤس میں سلامتی کی صورتحال سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ،قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ،ڈی جی آئی ایس آئی اورڈی جی آئی بی ‘چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر نے شرکت کی ۔ اجلاس میں لاہور ، مہمند ایجنسی ، پشاور اور کوئٹہ میں حالیہ دہشت گردحملوں کی شدید مذمت کی گئی اور ملک کے پر امن مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے قومی ہیروز کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ہرقسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ فوجی ، پولیس اور سول اداروں کے آپریشنز کے حاصل کردہ اہداف کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا ، ریاست کسی قیمت پر دہشت گردوں کو سر اٹھانے نہیں دے گی ۔مسلح افواج ، پولیس اور دیگر سول قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں ۔ امن واستحکام اور خوشحالی کے نظریے نے دہشت گردی کی سوچ کو ناکام بنا دیا ۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ دہشت گردوں کے خلاف ریاستی کاروائیوں کے نتیجے میں فاٹا ،بلوچستان اور کراچی سمیت ملک بھر میں سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے ۔اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک میں ہر طرح کی دہشت گردی کا قلع قمع کیا جائے گا ۔اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ ملکی امن وسلامتی کو درپیش کسی بھی بیرونی خطرے سے ریاستی طاقت سے نمٹا جائے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…