منگل‬‮ ، 13 اکتوبر‬‮ 2026 

دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کو بغیر آکسیجن سر کرنے اورپہاڑوں کا سینہ چیرنے والا آج کس حال میں ہے؟ جان کر آپ آبدیدہ ہو جائیں گے

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)ماؤنٹ ایورسٹ سمیت آٹھ ہزار میٹر سے زائد بلند چوٹیاں سر کرنے والے پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما حسن سدپارہ بلڈ کینسر میں مبتلا ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق تمغہ حسن کارکردگی کے حامل 53 سالہ حسن سدپارہ خون کے سرطان کے موذی عارضے میں مبتلا ہو گئے ہیں اور ان کے اہل خانہ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ مایہ ناز کوہ پیما کو علاج کے لیے فی الفور کراچی کے بڑے ہسپتال منتقل کرے۔وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات نے راولپنڈی میں زیر علاج حسن کو علاج کی بہترین سہولیات کی فراہمی کا حکم دیتے ہوئے ان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور جلد صحتیابی کی دعا کی۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے گفتگو میں حسن سدپارہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ملک کا نام روشن کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے اور آج وہ مشکل وقت میں حکومت سے مدد کی التجا کرتے ہیں۔
معروف کوہ پیما کے بیٹے عارف نے بتایا کہ وزرات اطلاعات نے رابطہ ضرور کیا ۔ کینسر جیسے موزی مرض کی تشخیص کے بعد ان کے والد کی ہنگامی بنیادوں پر مدد کی جائے اور بہتر علاج کیلئے انہیں کراچی منتقل کیا جائے۔سکردو کے قریب واقع گاؤں سدپارہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے حسن سدپارہ نے کوہ پیمائی کا آغاز 1994 میں کیا اور اسی سال پاکستان کی بلند ترین چوٹی کے ٹو سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔اس کے بعد حسن نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور حکومت کی جانب سے پذیرائی نہ ملنے کے باوجود 1999 میں قاتل پہاڑ کے نام سے مشہور نانگا پربت 2006 میں گیشا برم ون اور گیشا برم ٹو ? 2007 میں ’براڈ پیک‘ کو سر کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔2007 تک انہوں نے پاکستان میں واقع آٹھ ہزار میٹر سے بلند پانچ چوٹیاں آکسیجن کی مدد کے بغیر سر کر لی تھیں۔بالآخر 2011 میں انہوں نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایوریسٹ سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا اور نذیر صابر کے بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والے دوسرے پاکستانی بنے۔وہ پاکستان میں آٹھ ہزار میٹر سے بلند پانچ چوٹیوں اور ماؤنٹ ایوریسٹ سمیت چھ چوٹیاں سر کرنے والے واحد پاکستانی ہیں۔کوہ پیمائی کے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی پر حکومتِ پاکستان نے حسن سدپارہ کو سنہ 2008 میں تمغہ حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…