اتوار‬‮ ، 01 فروری‬‮ 2026 

اسرائیل مستقل طورپر فلسطینی سر زمین پر قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا ٗامریکی صدر اوباماکااقوام متحدہ سے خطاب

datetime 20  ستمبر‬‮  2016 |

نیویارک(این این آئی) امریکا کے صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ عالمی رہنماؤں کو مل کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا اور اسرائیل مستقل طور پر فلسطینی سر زمین پر قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے بطور امریکی صدر آخری خطاب کرتے ہوئے باراک اوباما نے کہاکہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ ہوسکتا ہے لیکن اس کے لئے اسے تشدد کا راستہ ترک کرنا ہوگا اور اسرائیل کو بھی سمجھنا چاہیئے کہ وہ مستقل طور پر فلسطینی سرزمین پر قابض نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری اقدار میں ترقی کے لیے ہمیں عالمی اتحاد کی ضرورت ہے، دنیا کی معیشت کو مساوی سطح پر لانے کے لئے مزید اقدامات کرنا ہوں گے،عوام کی حکومتوں سے توقعات بڑھتی جارہی ہیں، دنیا میں بدترین غربت کا شکار40 فیصد افراد کم ہوکر10 فیصد رہ گئے، تمام عالمی رہنماؤں کو مل کردرپیش چیلنجز کا مقابلہ کرناہوگا۔باراک اوباما نے کہا کہ مذہبی انتہا پسندی دنیا کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے، دہشت گرد سوشل میڈیا کو معصوم مہاجرین کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، ہمیں ہر قسم کی بنیاد پرستی اور نسل پرستی کو مسترد کرنا ہوگا اور بنیاد پرستی کو مسترد کر کے برداشت کا رویہ اپنانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا سمجھتی ہے کہ زیادہ تر مسائل امریکا کی وجہ سے ہیں اور ان مسائل کا حل بھی امریکا کے پاس ہے، ہمیں بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اپنی سنجیدگی برقرار رکھنا ہوگا، یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم ان مشکلات کا حل کیسے تلاش کریں۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امیر اور غریب میں فرق نئی بات نہیں لیکن یہ فرق اب بڑھ رہا ہے، ہمیں معیشت کو ہر ایک کے لئے بہتر بنانا ہوگا، ترقی پذیر ممالک میں کرپشن سے متوسط طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے، سماجی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی عالمی تشویش کا کوئی آسان حل نہیں، بہتر مقاصد حاصل کرنے کے لیے مزدوروں کی حالت سنوارنی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی دنیا جہاں ایک فیصد لوگ بیشتر دولت پر قابض ہوں وہاں 99 فیصد مستحکم نہیں ہوسکتے، وہ ممالک کامیاب ہیں جہاں کے عوام اپنے ملک کو اپنا اسٹیک سمجھتے ہیں، دنیا کی مثبت جمہوری قوتوں کو بہتر راہ پر گامزن رہنا چاہیے۔شام کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہمیں شام میں مشکل ترین سفارت کاری کا کام کرنا ہوگا اور سفارتکاری ہی شام میں 5 سالہ خانہ جنگی کے خاتمے کا راستہ ہے تاہم فوجی طاقت کے ذریعے شام میں کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی اور امریکا کو شام میں خانہ جنگی کے خاتمے اور متاثرہ افراد کی امداد کے لئے سخت محنت کرنا ہوگی۔

موضوعات:



کالم



اصفہان میں دو دن


کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…