اچھے بچے گھروں کو چلے جائیں

30  ‬‮نومبر‬‮  2023

پورے شہر میں اچانک آوازیں گونجنے لگیں‘ یہ منادی جیسی آوازیں تھیں اور لوگ بڑی توجہ سے انہیں سن رہے تھے‘ میں نے حیرت سے اپنے ساتھی سے ان کے بارے میں پوچھا‘ وہ ایک بزرگ جاپانی تھا‘ دو بار ریٹائر ہو چکا تھا اور زندگی کے تیسرے فیز میں85 سال کی عمر میں ٹور گائیڈ بن گیا تھا‘ انسان اس عمر میں جسمانی توانائی کھو بیٹھتا ہے‘ وہ بھی اس عمل سے گزر رہا تھا‘ ہنستا تھا تو محسوس ہوتا تھا آخری بار ہنس رہا ہے‘ خاموش ہوتا تھا تو لگتا تھا شاید اب کبھی نہ بول سکے اور جب چلتا تھا تو محسوس ہوتا تھا اپنے آخری سفر پر نکل رہا ہے‘ ہم سب کا متفقہ فیصلہ تھا ہمارا گائیڈ یہ سردیاں نہیں نکال سکے گا تاہم مجھے یہ ماننا ہوگا جاپان دنیا کا واحد ملک ہے جس میں انسان جوں جوں بوڑھا ہوتا ہے وہ اتنا ہی متحرک ہو جاتا ہے‘

وہ اتنا ہی کام کرتا ہے اور اس تحریک اور کام کی وجہ سے اس کا بڑھاپا اچھا گزرتا ہے‘ وہ بھی اس عمر میں کیوٹو کی گلیوں میں ہمارے ساتھ دھکے کھا رہا تھا جس میں ہمارے بوڑھے قبر میں ٹانگیں لٹکا کر بیٹھ جاتے ہیں اور کمبل تک اتارنے سے انکار کر دیتے ہیں‘ میں نے بہرحال اس سے انائونسمنٹ کے بارے میں پوچھا‘ اس نے اپنی نحیف آواز میں جواب دیا‘ جاپان میں آج بھی تمام شہروں میں شام پانچ بجے اعلان ہوتا ہے’’ شام ہو چکی ہے تمام اچھے بچے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں‘ والدین سے ملیں‘ ڈنر کریں اور وقت پر سو جائیں‘‘ میرے لیے یہ بات حیران کن تھی‘ میں نے اس سے پوچھا ’’کیا یہ اعلان پورے جاپان میں ہوتا ہے‘‘ اس کا جواب تھا ’’جی ہاں اور ہر شام پانچ بجے ہوتا ہے‘‘ میں نے پوچھا ’’اور یہ اعلان کون کرتا ہے؟‘‘ اس کا جواب تھا ’’سٹی کونسلز کرتی ہیں‘‘ میرا اگلا سوال تھا ’’کیا نوجوان اس اعلان پر عمل کرتے ہیں؟‘‘ اس نے پوپلے منہ سے جواب دیا ’’ہاں نوے فیصد بچے اعلان کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں‘

والدین کو ملتے ہیں‘ کھانا کھاتے ہیں اور رات آٹھ بجے سو جاتے ہیں‘‘میں حیرت سے اسے دیکھنے لگا‘ یہ بات 2023ء کے آخر میں عجیب محسوس ہوتی ہے ‘آج کے ماڈرن دور میں دنیا میں ایک ایسا ملک ہے جس میں باقاعدہ لائوڈ اسپیکرز پر اعلان ہوتا ہے اور یہ اعلان سن کر 15 سال تک کے بچے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں اور وہ دنیا کے ترقی یافتہ ترین ملکوں میں شمار بھی ہوتا ہے مگر جاپان وہ ملک ہے‘ ہم اس بار آٹھ دن جاپان میں رہے اور ہمارے گروپ کو ان آٹھ دنوں میں شام کے وقت گلیوں‘ بازاروں اور شاپنگ سنٹرز میں ایک بھی بچہ دکھائی نہیں دیا‘ پندرہ سال تک کے بچے شام پانچ بجے کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں‘ یہ والدین کے ساتھ شاپنگ اور ڈنرز کے لیے بھی باہر نہیں نکلتے تاہم ویک اینڈز پر یہ سختی نرم ہو جاتی ہے‘ بچے والدین کے ساتھ شاپنگ بھی کرتے ہیں اور ریستوران میں ڈنر بھی۔

ہم نے ایک پورا دن کیوٹو میں گزارا‘ یہ شہر جاپان کا پرانا دارالحکومت ہے اور اپنے ٹمپلز کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے‘ اس کی پرانی پتھریلی گلیاں‘ اولڈ جاپانی سٹائل کی عمارتیں‘روایتی چائے خانے اور جاپان کے مخصوص لباس میں ملبوس عورتیں یہ مناظر آپ کو ہزار سال پیچھے لے جاتے ہیں‘ یہ شہر اپنے ٹمپلز کی وجہ سے پورے جاپان میں مقدس سمجھا جاتا ہے لہٰذا یہاں روزانہ لاکھ کے قریب زائرین اور سیاح آتے ہیں مگر آپ کو کسی سڑک‘ کسی گلی میں تنکا تک دکھائی نہیں دیتا‘ جاپان صفائی کے معاملے میں پوری دنیا کا امام ہے اور کیوٹو بھی اس امامت کا حصہ ہے‘ ہم نے کیوٹو میں بانس کے مشہور جنگل بھی دیکھے‘ چالیس چالیس فٹ اونچے بانسوں کے درمیان سے ٹرین گزرتی ہے اور اس کی آواز دل کو ہلا کر رکھ دیتی ہے‘ ہمیں کیوٹو کا گولڈن ٹمپل دیکھنے کا اتفاق بھی ہوا‘ پانی کی خندق کے درمیان سونے سے بنا ہوا ایک مندر تھا اور لوگ اس کی طرف دیکھ کر ہاتھ جوڑ کر جھکتے تھے اور مہاتما سے مانگتے تھے‘

جاپان میں نوے فیصد ٹمپلز میں داخلے کی فیس ہے‘ اس رقم سے ٹمپلز کا انتظام چلتا ہے‘ ہر ٹمپل میں فال نکالنے کا قدیم سسٹم بھی ہے‘ یہ ایک دل چسپ طریقہ ہے‘ دیوار کے ساتھ شیلفوں میں ریکس لگے ہیں‘ ان میں چھپے ہوئے کاغذ رکھے ہیں‘ میز پر لوہے کا جار پڑا ہے اور اس میں لکڑی کی فٹ فٹ لمبی ڈنڈیاں ہیں‘ آپ منی باکس میں 100 ین ڈالیں‘ لوہے کے جار کو ہلائیں‘ اس میں سے ایک ڈنڈی نکالیں‘ ڈنڈی پر ایک نمبر لکھا ہو گا آپ اس نمبر کو ریک کے ساتھ میچ کریں‘ اپنا کاغذ یا کارڈ نکالیں اور آپ کا مقدر آپ کے ہاتھ میں ہو گا‘ جاپانی لوگ اس فال پر بہت یقین کرتے ہیں‘ ہم نے بھی فال نکالی لیکن مزہ نہیں آیا کیوں کہ کاغذ پر جنرل انفارمیشن تھی اور یہ انفارمیشن کسی بھی شخص پر پوری اتر سکتی تھی‘ پورے ملک میں ٹمپلز کے سامنے لوہے کے بڑے بڑے ڈرموں میں خوشبودار لکڑیاں اور اگر بتیوں کا برادہ جلایا جاتا ہے اور لوگ ہاتھوں سے اس کا دھواں اپنے جسم کی طرف دھکیل کر ٹمپل میں داخل ہوتے ہیں‘ یہ لوگ وضو بھی دل چسپ طریقے سے کرتے ہیں‘ ٹمپلز کے سامنے پانی کے حوض ہوتے ہیں‘ ان میں بانس کے لمبے سے ’’پوے‘‘ ہوتے ہیں‘

یہ پوے ہمارے چائے کے پوئوں کی طرح ہوتے ہیں لیکن ان کی ہاتھ میں پکڑنے والی ڈنڈیاں لمبی ہوتی ہیں‘ یہ لوگ پوئوں کے ذریعے حوض سے پانی نکالتے ہیں‘ ہاتھ دھوتے ہیں اور اس کے بعد دعا کرتے ہیں‘ ٹمپلز کے سامنے پرانی اشیاء کی مارکیٹیں بھی لگتی ہیں‘ آپ وہاں سے سووینئرز خرید سکتے ہیں‘ جاپان میں پورے ملک میں ریٹس فکس ہوتے ہیں اور کسی قسم کا بھائو تائو نہیں ہوتا‘ دکان دار اشیاء پر لگی چٹ کے مطابق رقم لے گا اور بس‘ دوسرا آپ کوئی چیز ائیرپورٹ سے لیں یا پھر کسی دور دراز گائوں سے دونوں کا ریٹ ایک ہو گا‘ مقام اور فاصلے کی تبدیلی سے نرخ تبدیل نہیں ہوتے‘ جاپان میں چار عادتیں کامن ہیں‘ ننانوے فیصد جاپانی ایمان دار ہیں‘ یہ جھوٹ بولیں گے اور نہ آپ سے فراڈ کریں گے‘ وقت کے انتہائی پابند ہوں گے‘ یہ اگر کسی آفت یا ایکسیڈنٹ کی وجہ سے لیٹ ہو جائیں تو شدید ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں اور باقاعدہ اونچی آواز میں رونا شروع کر دیتے ہیں‘

انتہا درجے کے عاجز اور منکسرالمزاج ہیں‘ آپ کسی سے راستہ پوچھ لیں‘ وہ کام چھوڑ کر آپ کی رہنمائی کرے گا اور اگر اسے معلوم نہیں ہو گا تو ہاتھ جوڑ کر آپ کے سامنے جھک کر اتنی بار معذرت کرے گا کہ آپ شرمندہ ہو جائیں گے‘ یہ لوگ دوسروں کو شرمندہ بھی نہیں کرتے‘ ہمارے ایک دوست ائیرپورٹ پر غلطی سے خواتین کے واش روم میں چلے گئے‘ وہ خواتین کے درمیان اکیلے مرد تھے‘ وہ تازہ تازہ جاپان اترے تھے‘ انہیں محسوس ہوا شاید جاپان میں عورتوں اور مردوں کے واش رومز کامن ہوتے ہیں لہٰذا وہ ہاتھ دھو کر سکھا کر باہر آ گئے مگر کسی خاتون نے انہیں ان کی غلطی کا احساس دلایا اور نہ شرمندہ کیا‘ انہیں باہر آ کر اپنی حماقت کا اندازہ ہوا تو وہ شرمندہ ہو گئے اور چوتھی چیز کوئی جاپانی گندہ نہیں ہو سکتا‘یہ فروٹ کھائیں گے تو ان کے چھلکے اور گٹھلیاں بیگ میں رکھ کر گھر لے جائیں گے‘ یہ لوگ صفائی کے اس لیول پر پہنچ گئے ہیں جہاں حکومت نے شہروں سے ڈسٹ بینز اٹھا لی ہیں چناں چہ آپ کو پورے پورے شہر میں ڈسٹ بین نہیں ملتی اور آپ خالی بوتلیں اور پھٹے ہوئے ریپر اٹھا اٹھا کر پھرتے رہتے ہیں‘ یہ لوگ پبلک ٹوائلٹس بھی استعمال کے بعد صاف کر کے باہر نکلتے ہیں‘ آپ کو گھروں سے لے کر بسوں اور ٹرینوں کے واش روم بھی انتہائی صاف اور چمکتے ہوئے ملتے ہیں اور ٹمپلز میں صفائی کا لیول اس سے بھی کہیں آگے ہے۔

جاپان میں حیاء بھی حیران کن ہے‘ یورپ اور امریکا میں عورتوں کا مردوں سے بغل گیر ہونا‘ ہاتھ پکڑ کر چلنا پھرنا اور سڑکوں پر بوس وکنار عام سی بات ہے لیکن جاپان میں کسی سڑک‘ کسی بازار میں آپ کو یہ منظر دکھائی نہیں دیتا‘ خواتین اور مرد خاص فاصلے پر رہتے ہیں‘ آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے‘ آپ کو ہر جگہ عورتیں کام کرتی دکھائی دیتی ہیں‘ پولیس میں بھی خواتین کی تعداد زیادہ ہے لیکن آپ کو ان کی آنکھوں میں حیاء اور سادگی ملے گی‘ پورا ملک ’’فیملی مین‘‘ ہے‘ لوگ گھروں میں رہنا اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنا پسند کرتے ہیں‘ آپ دن رات کسی بھی وقت رہائشی علاقوں میں چلے جائیں آپ کو وہاں مکمل خاموشی ملے گی‘ کسی بالکونی‘ کسی دہلیز یا کسی کھڑکی میں کوئی شخص نظر نہیں آئے گا تاہم یہ لوگ ’’ویک اینڈز‘‘ پر اپنے لانز اور سبزیوں کی کیاریوں میں ضرور کام کرتے ہیں‘ گھروں کی صفائی بھی خود کرتے ہیں‘

بچے خود سکول جاتے ہیں‘ پیدل یا سائیکل پر جاتے ہیں‘ والدین انہیں گاڑی پر سکول نہیں چھوڑ سکتے تاہم چھوٹے بچوں کو والدین قطاروں میں کھڑا کر کے سکول چھوڑتے اور واپس لاتے ہیں‘ یہ والدین کمیونٹی سے ہوتے ہیں اور روزانہ تبدیل ہوتے ہیں‘ ان کے نام ایک ماہ پہلے فائنل ہوتے ہیں اور تمام بچوں کے والدین اور سکول کو ان کی باقاعدہ اطلاع دی جاتی ہے جب کہ بڑے بچے خود سکول جاتے اور واپس آتے ہیں‘ کوئی بچہ یونیفارم کے بغیر سکول نہیں جا سکتا اور یہ اگر سکول کے وقت یا بعد میں کسی مارکیٹ میں دکھائی دے تو پولیس پہنچ جاتی ہے اور اس سے گھومنے پھرنے کی وجہ پوچھتی ہے اور اس کے بعد سکول کی انتظامیہ کو اطلاع دیتی ہے‘ پارکس اور میوزیمز میں بھی بچے اساتذہ کے بغیر نہیں جا سکتے‘بچے قطار میں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر چلتے ہیں اور قطار کے شروع اور آخر میں استاد ہوتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)


ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…

برداشت

بات بہت معمولی تھی‘ میں نے انہیں پانچ بجے کا…

کیا ضرورت تھی

میں اتفاق کرتا ہوں عدت میں نکاح کا کیس واقعی نہیں…