یہ فیصلے ہمارے نہیں ہوتے(آخری حصہ)

  منگل‬‮ 16 مارچ‬‮ 2021  |  0:01

میںواجد شمس الحسن کا فین تھا لیکن ان کی کتاب ”بھٹو خاندان میری یادوں میں“ پڑھ کر میں ان کا عقیدت مند بھی ہو گیا ہوں‘ مجھ سے اگر پوچھا جائے ہمارے ملک میں سب سے زیادہ کمی کس چیز کی ہے تو میں آنکھیں بند کر کے کہوں گا‘ ہم من حیث القوم ”وٹامن کریکٹر“ کی کمی کا شکار ہیں‘ ہم میں کریکٹر نہیں‘ اپنی بات پر کھڑا ہونا تو دور ہم قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر بھی مکر جاتے ہیں‘ آپ سینیٹ کے حالیہ الیکشن ہی کو لے لیں‘ دو مارچ کو حکومت کے8 17 ارکان نے وزیراعظم کے ساتھ کھانا کھایا۔

حکومت کو اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر اپنی وفاداری کا یقین دلایا لیکن تین مارچ کوان میں سے 17 ارکان نے

یوسف رضا گیلانی کو ووٹ ڈال دیے‘ 11 مارچ کی رات بھی پی ڈی ایم کے 52 ارکان اپنی اپنی قیادت کو اپنی وفاداریوں کا یقین دلاتے رہے لیکن 12 مارچ کی دوپہر اپوزیشن کے سات سینیٹرز نے اپنے ووٹ ضائع کر کے یوسف رضا گیلانی کو ہرا دیا‘ مظفر علی شاہ کو پریذائیڈنگ آفیسر بنانا اور سات ارکان کا غلط جگہ مہر لگانا یہ دونوں طے تھے‘ آپ کمال دیکھیے یہ ساتوں سینیٹرز اس وقت بھی وکٹ کی دونوں سائیڈز پر ہیں اور کوئی ان کا بال تک بیکا نہیں کر سکتا‘ اس ماحول میں واجد شمس الحسن جیسے لوگ سیلوٹ کے قابل ہیں‘ یہ لوگ جس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یہ علی الاعلان کھڑے ہوتے ہیں اور کسی کو ان کی وفاداری پر رتی برابر بھی شک نہیں ہوتا‘ واجد صاحب 1960ءکی دہائی میں بھٹو خاندان سے وابستہ ہوئے اور یہ آج تک ان کے ساتھ ہیں‘ یہ محترمہ کے انتہائی قریبی ساتھی تھے‘ بے نظیر بھٹو کے بے شمار بھائی اور سیاسی بازو تھے لیکن وہ اعتبار صرف واجد شمس الحسن پر کرتی تھیں اور واجد صاحب نے کبھی اس اعتبار کو ٹھیس نہیں پہنچنے دی‘ ہم ان سے سو اختلاف کر سکتے ہیں مگر جہاں تک بھٹو خاندان کے ساتھ ان کے بانڈ کی بات ہے یہ اس معاملے میں ٹھوس ہیں اور آج کے دور میں یہ کوئی چھوٹی بات نہیں‘ یہ وہ کریکٹر ہے جو اس وقت ہماری سیاست اور سوسائٹی دونوں میں ناپید ہو چکا ہے چناں چہ میں واجد شمس الحسن کو سلام پیش کرتا ہوں۔

واجد شمس الحسن نے اپنی کتاب میں این آر او پر بھی بڑی تفصیل سے لکھا‘ یہ تفصیلات چشم کشا ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں ہم خود کو لاکھ آزاد اور خود مختارکہیں لیکن ہمارے تمام بڑے فیصلے ملک سے باہر دوسری قوتیں کرتی ہیں اور ہم صرف یہ فیصلے بھگتتے ہیں‘ واجد صاحب نے لکھا‘ پاکستان پیپلز پارٹی سے عقیدت رکھنے والے ایک صاحب رحمن چشتی لندن کی ایک کاﺅنٹی میں کونسلر تھے‘یہ کسی وفد کے ساتھ پاکستان آئے‘ اسلام آباد میں ان کی ملاقات برطانیہ کے ہائی کمشنرسے ہوئی۔

رحمن چشتی نے ہائی کمشنر سے کہا ”پاکستان کے حالات خراب ہیں‘ برطانیہ کی حکومت جنرل مشرف پر الیکشن کرانے کے لیے پریشر کیوں نہیں ڈالتی؟“ برطانوی ہائی کمشنر نے کہا ”میں یہ کوشش کر سکتا ہوں لیکن مجھے پتا ہونا چاہیے بے نظیر بھٹو کیا چاہتی ہیں“ رحمن چشتی نے کہا ”بے نظیر الیکشن چاہتی ہیں‘دوسرا جنرل مشرف اگر صدر رہنا چاہتے ہیں تو پھر انہیں وردی اتارنا ہو گی“ پیغام واضح تھا یعنی اگر مشرف وردی اتاردیں اور الیکشن کرادیں تو پیپلز پارٹی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

رحمن چشتی لندن میں بے نظیر بھٹو اور واجد شمس الحسن سے ملے اور انہیں ہائی کمشنر کا پیغام دیاکہ بی بی برطانوی وزیر خارجہ (فارن سیکرٹری) جیک سٹرا کو خط لکھ دیں‘ واجد شمس الحسن نے بے نظیر بھٹو کی طرف سے جیک سٹرا کو خط لکھ دیا‘ جیک سٹرا نے چند دن بعد بے نظیر بھٹو کو ملاقات کا وقت دے دیا‘ برطانوی وزیر خارجہ نے ملاقات میں بتایا” ہماری پالیسی تبدیل ہو گئی ہے‘ ہم چاہتے ہیں پاکستان میں انتخابات ہوں اور تمام پارٹیوں کو ان میں حصہ لینے کی اجازت ہو“ جیک سٹرا کا کہنا تھا ”جنرل مشرف اس شرط پر الیکشن کرانے کے لیے تیار ہیں آپ الیکشن میں حصہ نہ لیں اور پاکستان بھی نہ جائیں“۔

محترمہ نے یہ شرط ماننے سے انکار کر دیا اور کہا ”میری پارٹی اس وقت تک الیکشن نہیں لڑے گی جب تک میں الیکشن مہم نہ چلاﺅں“ اس پر جیک سٹرا نے پوچھا”آپ کے امریکا سے کیسے تعلقات ہیں؟“ بے نظیر نے جواب دیا ”جیسے آپ کے ہیں“ جیک سٹرا نے ملاقات کے آخر میں کہا ”میں آپ کو امریکا سے بات کر کے بتاﺅں گا“ واجد شمس الحسن نے انکشاف کیا‘ جیک سٹرا کے ساتھ ملاقات کے چند دن بعد امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس لندن آئی اور اس نے لندن میں امریکا کے ڈپٹی ہائی کمشنر کے گھر بے نظیر بھٹو سے ملاقات کی۔

یہ ملاقات تین گھنٹوں پر مشتمل تھی‘ اس ملاقات کے تھوڑے عرصے بعد بے نظیر بھٹو اور کونڈو لیزا رائس کے درمیان امریکا میں خفیہ ملاقات ہوئی‘ اس خفیہ ملاقات کے چند ہفتے بعد امریکا کے نائب وزیر خارجہ رچرڈ باﺅچر بے نظیر بھٹو سے ملاقات کے لیے دوبئی آئے‘ بے نظیر اور واجد شمس الحسن کو ایک شاپنگ مال میں بلوایا گیا‘ پارکنگ میں امریکی ایمبیسی کی گاڑی کھڑی تھی‘ یہ دونوں گاڑی میں بیٹھ کر رچرڈ باﺅچر کے پاس پہنچ گئے‘ باﺅچر نے بتایا‘ جنرل مشرف آپ کے کسی نمائندے سے براہ راست ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔

بے نظیر نے جواب دیا‘ میں جنرل مشرف سے خود ملاقات کروں گی‘ رچرڈ باﺅچر بے نظیر سے ملاقات کے بعد اسلام آباد چلا گیا اور وہاں سے واجد شمس الحسن کو ای میل کی جنرل مشرف بے نظیر سے ملاقات کے لیے تیار ہیں‘بے نظیر بھٹو نے اوکے کر دیا‘ جنرل مشرف نے چار عرب ملکوں کے دورے کا اعلان کر دیا‘ دورے سے پہلے رچرڈ باﺅچر کا فون آیا اور اس نے بتایا‘ جنرل مشرف کچھ دیر میں بی بی کو فون کرے گا‘ آپ یہ فون اٹینڈ کر لیں‘ جنرل مشرف کا فون آیا اور ابوظہبی کے سلطان کے محل میں میٹنگ طے ہو گئی‘ 27 جولائی 2007ءکو میٹنگ ہوئی۔

بے نظیر کے ساتھ رحمن ملک اور مخدوم امین فہیم جب کہ جنرل مشرف کے ساتھ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اشفاق پرویز کیانی اور پرنسپل سیکرٹری طارق عزیز تھے تاہم دونوں کی ملاقات ون ٹو ون تھی اور یہ ساڑھے چار گھنٹے جاری رہی‘ جنرل مشرف چاہتے تھے بے نظیر پاکستان نہ آئیں‘ یہ اس کے عوض ان کے تمام مقدمات ختم کرنے کے لیے تیار تھے مگر محترمہ ہر صورت پاکستان جانا چاہتی تھیں‘ جنرل مشرف نے آخر میں بے نظیر کو سینیٹ میں آنے کی آفر کر دی لیکن بے نظیر اپنی بات پر قائم رہیں‘ جنرل مشرف نے بی بی سے کہا‘ میں پارلیمنٹ میں بل لا کر چیف جسٹس کی مدت ملازمت تین سال کرنا چاہتا ہوں یوں میں جسٹس افتخار محمد چودھری سے جان چھڑا لوں گا‘ آپ مجھے سپورٹ کریں لیکن بی بی نے ہنس کر انکار کر دیا۔

واجد صاحب نے انکشاف کیا‘ ہم نے واپسی پر رچرڈ باﺅچر کو میٹنگ کی تفصیلات بتا دیں‘ امریکا اور برطانیہ دونوں نے بی بی کو مشورہ دیا‘ آپ پاکستان نہ جائیں اور الیکشن بھی نہ لڑیں لیکن بی بی نے صاف انکار کر دیا‘ اس پر امریکا نے کہا‘ ہم جنرل مشرف سے آپ کے الیکشن میں حصہ لینے کی بات کرتے ہیں لیکن آپ نواز شریف کی بات نہ کریں مگر بی بی نے کہا‘ نواز شریف سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت ملنی چاہیے۔

واجد شمس الحسن نے انکشاف کیا‘ رحمن ملک اور امین فہیم اور جنرل کیانی اور طارق عزیز کے درمیان مذاکرات چلتے رہے‘ پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر ان تمام معاملات کو دیکھ رہا تھا‘ جنرل مشرف چاہتے تھے بے نظیر طارق عزیز اور جنرل کیانی سے ملیں لیکن محترمہ نے انکار کر دیا‘ واجد صاحب نے انکشاف کیا‘ محترمہ نے پاکستان واپس آنے اور قومی اسمبلی سے استعفوں کا فیصلہ کر لیا‘ اگر پیپلز پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی سے استعفے دے دیتے تو جنرل مشرف کا سیٹ اپ ختم ہو جاتا۔

ہم پریس کانفرنس کی تیاری کر رہے تھے‘ اچانک مشرف نے کونڈو لیزا رائس سے بات کی اور کونڈو لیزا رائس کے منع کرنے پر بے نظیر بھٹو نے قومی اسمبلی سے استعفوں کا فیصلہ مو¿خر کر دیا‘ مستعفی نہ ہونے کے بدلے جنرل پرویز مشرف محترمہ کو تیسری بار وزیراعظم بنانے پر بھی راضی ہو گئے اور الیکشن کرانے پر بھی‘ یہ خوش خبری کونڈو لیزا رائس نے بے نظیر بھٹو کو فون کر کے سنائی‘ جنرل مشرف نے کونڈو لیزا رائس کو محترمہ بے نظیر بھٹو کو سیکورٹی دینے کا وعدہ بھی کیا تھا۔

پاکستان میں امریکی سفیر این پیٹرسن کو بھی سیکورٹی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور یوں محترمہ بے نظیر بھٹو18 اکتوبر 2007ءکو پاکستان واپس آگئیں۔جنرل مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان این آر او کی پوری داستان پڑھنے کے بعد یہ شک ہمیشہ کے لیے یقین میں بدل جاتا ہے ہم تیسری دنیا کے لوگوں کی جمہوریت بھی ہماری نہیں ہوتی‘ یہ بھی بیرونی طاقتوں کی مرہون منت ہوتی ہے‘ ہمارے آقا جب چاہتے ہیں پرویز مشرف آ جاتے ہیں اور یہ اس وقت تک یونیفارم میں رہتے ہیں جب تک امریکا‘ برطانیہ اور سعودی عرب انہیں یونیفارم میں دیکھناچاہتے ہیں اور جب یہ ملک انہیں فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو اس وقت لندن کی کسی چھوٹی سی کاﺅنٹی کا کونسلر بھی بے نظیر بھٹو کو جیک سٹرا سے ملا دیتا ہے اور جیک سٹرا کونڈو لیزا رائس کے ساتھ مل کر پورے ملک کا مقدر بدل دیتا ہے۔

آپ اس سے اپنی اوقات کا اندازہ کر لیجیے‘ آپ یہ دیکھ لیجیے پاکستان کا فیصلہ ٹونی بلیئر یا جارج بش نہیں کرتے‘ ہمارے فیصلے ہائی کمشنر‘ نائب وزیر خارجہ اور وزیر خارجہ کے لیول پر ہو جاتے ہیں اور پھر ان پر عمل بھی ہو جاتا ہے لہٰذا میرا پی ڈی ایم کو مشورہ ہے آپ سڑکوں پر مارچ کرنے کی بجائے ولی عہد محمد بن سلمان‘ برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب اورا مریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن سے رابطہ کریں‘ اس سے قوم اور آپ دونوں کا وقت بچ جائے گا لہٰذا آپ اسلام آباد آنے کی بجائے لندن‘ نیویارک اور ریاض جائیں‘ آپ کے اصل فیصلہ ساز وہاں بیٹھے ہیں۔


زیرو پوائنٹ

اللہ ہی رحم کرے

مغل بادشاہ شاہ جہاں کے پاس ایک ترک غلام تھا‘ وہ بادشاہ کو پانی پلانے پر تعینات تھا‘ سارا دن پیالہ اور صراحی اٹھا کر تخت کے پاس کھڑا رہتا تھا‘ بادشاہ اس کی طرف دیکھتا تھا تو وہ فوراً پیالہ بھر کرپیش کر دیتا تھا‘ وہ برسوں سے یہ ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا اور بڑی حد تک بادشاہ ....مزید پڑھئے‎

مغل بادشاہ شاہ جہاں کے پاس ایک ترک غلام تھا‘ وہ بادشاہ کو پانی پلانے پر تعینات تھا‘ سارا دن پیالہ اور صراحی اٹھا کر تخت کے پاس کھڑا رہتا تھا‘ بادشاہ اس کی طرف دیکھتا تھا تو وہ فوراً پیالہ بھر کرپیش کر دیتا تھا‘ وہ برسوں سے یہ ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا اور بڑی حد تک بادشاہ ....مزید پڑھئے‎