وہ خاموشی سے چلا گیا

  اتوار‬‮ 22 دسمبر‬‮ 2019  |  0:01

مسعود ملک سے میرا پہلا رابطہ 1995ء میں ہوا‘ میں روزنامہ پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا اور میں نے مشاہیر کے انٹرویوز کا سلسلہ شروع کیا تھا‘ ممتاز مفتی صاحب کا انٹرویو شائع ہوا‘ یہ تہلکا خیز ثابت ہوا‘ ملک کے تمام اخبارات نے اسے ری پرنٹ کیا‘ مسعود ملک اس وقت نوائے وقت میں چیف رپورٹر تھے‘ یہ مجھے ملنے دفتر آئے اور دیر تک تعریف کرتے رہے‘ یہ پہلی ملاقات ہماری دوستی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ بن گئی‘ یہ ایک بار اپنی بیگم کے ساتھ میرے گھر بھی تشریف لائے۔

میں چھوٹے سے گھر میں رہتا تھا‘ دیواروں پر پینٹ تک نہیں تھا‘ میرا صوفہ بھی پھٹا ہوا تھا‘ مہمان آتے تھے تو میرا بیٹا بھاگ کر صوفے کے پھٹے ہوئے حصے پر

بیٹھ جاتا تھااور مہمانوں کے جانے تک صوفے پر ڈٹا رہتا تھا یوں صوفے اور ہماری دونوں کی عزت رہ جاتی تھی‘ مسعود ملک بھی آئے تو بیٹا بھاگ کر صوفے پر بیٹھ گیا‘گرمیاں تھیں‘ میں چائے کا بندوبست کر رہا تھا‘ ملک صاحب نے بیٹے سے کہا ”بیٹا مجھے اندر سے پانی تو لا دو“ بیٹے نے انکار میں سر ہلا کر کہا ”انکل میں نہیں لا سکتا“ مسعود ملک کے لیے یہ رویہ حیران کن تھا‘ انہوں نے حیرت سے پوچھا ”کیوں نہیں لا سکتے“ بیٹے نے جواب دیا ”انکل میں آپ کو وجہ بھی نہیں بتا سکتا“ مسعود ملک رپورٹر تھے‘ ان کے تجسس کی رگ پھڑک گئی اور یہ بچے کو بہلا پھسلا کر وجہ پوچھنے لگے‘ ان کی بیگم انہیں سمجھاتی رہی لیکن یہ باز نہ آئے اور بچے سے سوال بدل بدل کر وجہ پوچھتے رہے‘ مجھے اس دوران ڈرائنگ روم سے قہقہوں کی آواز آئی اور میں چائے چھوڑ کر اندر آ گیا‘ مسعود ملک اندر پیٹ پکڑ کر بیٹھے تھے اور بھابھی اپنا منہ دوپٹے میں چھپا کر ہنس رہی تھیں جب کہ میرے بیٹے نے رونے والا منہ بنایا ہوا تھا‘ میرے ہاتھ میں چائے پھینٹنے والا ”پوا“ تھا‘ کمر پر ایپرن تھا اور میں ڈرائنگ روم کے درمیان کھڑا ہو کر تینوں کو دیکھ رہا تھا۔

https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLSeVjVL4AN-dvPKf7cKZl5jq2hNbHGzxfPKRMNMLJRg1cAERnw/viewform

مسعود ملک نے ہنستے ہنستے کہا ”یار چودھری تم نے بچے کو کیسی زبردست ذمہ داری دے رکھی ہے“ میری بھی ہنسی نکل گئی‘ پتا چلا مسعود ملک نے بیٹے سے بار بار پوچھا تو بچے نے تنگ کر بتا دیا ”انکل اگر میں اٹھ گیا تو آپ کو پتا چل جائے گا ہمارا صوفہ پھٹا ہوا ہے“ میں نے ملک صاحب کو بتایا یہ ڈیوٹی ہم نے نہیں لگائی‘ ہمارا بچہ ذمہ دار طبیعت کا مالک ہے‘ یہ اس محاذ پر خود ہی ڈٹ گیا ہے‘ میں نے چائے کے دوران ملک صاحب سے پوچھا ”آپ کے صوفے خراب ہوتے ہیں تو آپ کیا کرتے ہیں“۔

میں آج اعتراف کرتا ہوں مجھے صوفوں کے بارے میں پہلا علم مسعود ملک نے دیا تھا‘ میں ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتا تھا جس میں کسی چیز‘ کسی رشتے اور کسی عادت کو ریٹائر کرنے کا تصور نہیں تھا‘ ہمارے گھر میں دادی بلکہ پردادی کے برتن اور جہیز کا سامان بھی موجود تھا‘ ہم لوگ ٹوٹی ہوئی کرسی‘ میز اور چارپائی کی بھی پوری عزت کے ساتھ رکھوالی کرتے تھے چناں چہ مجھے پتا ہی نہیں تھا صوفہ اگر پھٹ جائے تو اس کا کیا کرنا چاہیے‘ مجھے ملک صاحب نے بتایا میں فرنیچر والوں کو پرانے صوفے دیتا ہوں‘ ان کو تھوڑی سی اضافی رقم پکڑاتا ہوں اور نئے لے لیتا ہوں‘ میں نے اگلے ہی دن یہ کیا اور آج تک کر رہا ہوں۔

مجھے اس کے بعد جب بھی ملک صاحب ملتے تھے میں لوگوں کے درمیان کہتا تھا ”یہ میرے صوفہ استاد ہیں“ اور یہ قہقہہ لگا دیتے تھے‘ میں نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محسوس کیا یہ صوفے کی کہانی سے پرہیز کرتے ہیں‘ یہ شاید یہ محسوس کرتے تھے اس سے لوگوں میں میرا امیج خراب ہو گا لیکن آپ میرا ڈھیٹ پن اور بے عزتی کی عادت ملاحظہ کیجیے‘ میں ان کی موجودگی میں ہر جگہ یہ واقعہ دہرا دیتا تھا اور لوگ اسے انجوائے کر تے تھے۔

بزرگ کہتے ہیں آپ اگر کسی شخص کو سمجھنا چاہتے ہیں تو آپ اس کے ساتھ سفر کریں‘ اس کے ساتھ کھانا کھائیں یا آپ اس کے ساتھ لین دین کریں‘ وہ شخص کھل کر آپ کے سامنے آ جائے گا‘ مجھے ملک صاحب کے ساتھ سفر کا موقع بھی ملا اور میں نے ان کے ساتھ کھانا بھی کھایا‘ یہ دونوں کے درمیان کمال انسان تھے‘میں 1999ء میں ان کے ساتھ سنگا پور گیا‘ یہ سرکاری ٹور تھا‘ ہم وزیراعظم کے وفد میں شامل تھے‘ میں نے ان سے سیکھا سفر کے دوران دوسروں کا خیال رکھنا چاہیے۔

ہمارے ایک ساتھی ہمیشہ لیٹ ہو جاتے تھے مگر ملک صاحب اس کے لیے گاڑی بھی رکواتے تھے اور ہوٹل میں جا کر اسے لاتے بھی تھے‘ ہم اس کے ساتھ منہ بناتے تھے تو یہ کہتے تھے ہم صرف دو دن کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں‘ صرف دو دن کے ساتھ میں لڑنے کی کیا ضرورت ہے! ہمارا ہم خیال گروپ اب جہاں بھی جاتا ہے اور ہمارے ایک دو ساتھی پیچھے رہ جاتے ہیں اور دوسرے ساتھی شور کرتے ہیں تو مجھے مسعود ملک یاد آ جاتے ہیں اور میں سوچتا ہوں یہ چند دن کا ساتھ ہے‘ ہم کل پھر بچھڑ جائیں گے‘ ہمیں اتنے مختصر سفر اور ساتھ کے دوران ایک دوسرے سے لڑنے کی کیا ضرورت ہے

اور میں ناراض لوگوں کو راضی کر کے پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ ملا دیتا ہوں اور دل ہی دل میں مسعود ملک کو دعا دیتا ہوں‘ ملک صاحب جنرل پرویز مشرف کے دور میں حکومت کے عتاب کا شکار ہوئے‘ نوائے وقت کو پیغام دیا گیا اشتہار یا مسعود ملک‘ اخبار نے اشتہار قبول کر لیے اور مسعود ملک کو فارغ کر دیا‘ یہ اس کے بعد مختلف اداروں میں دھکے کھاتے رہے مگر کبھی شکوہ نہیں کیا‘ یہ جب بھی ملتے تھے ان کے ہاتھ اور زبان دونوں میں گرم جوشی ہوتی تھی۔

مجھے پوری صحافتی برادری میں کسی دوسرے شخص میں اتنی گرم جوشی نہیں ملی‘ میاں نواز شریف ان کی بڑی قدر کرتے تھے چناں چہ 2013ء میں وزیراعظم نے انہیں اے پی پی کا ڈائریکٹر جنرل لگا دیا‘ یہ اس کے بعد بڑے تواتر سے مجھے ملتے رہے‘ یہ بیگم اور بچوں کے ساتھ میرے گھر بھی تشریف لائے‘ ہماری کمپنی ویب ڈیزائننگ اور سوشل میڈیا کا کام کرتی تھی‘ یہ اے پی پی کو مکمل طور پر آن لائین کرنا چاہتے تھے‘ ویب ٹی وی بھی بنانا چاہتے تھے‘ میری کمپنی نے 2008ء میں فیصلہ کیا تھا ہم گورنمنٹ کے ساتھ کام نہیں کریں گے چناں چہ ہم انہیں ”فری سروسز“ دینے لگے۔

یہ اس دوران بے شمار مرتبہ مجھے اور میرے بیٹے کو ملے اور یہ ہمیں ہر مرتبہ پہلے سے زیادہ شان دار انسان دکھائی دیے لیکن پھر یہ اچانک غائب ہو گئے‘ میں نے محسوس کیا یہ بھی شاید ن لیگ کی حکومت کے بعد عتاب کا نشانہ بن گئے ہوں گے یا یہ بھی زمانے کی مار کھا کھا کر پسپا ہو گئے ہوں گے اور خاموشی میں پناہ لے لی ہو گی لیکن پھر اچانک ستمبر میں ان کا فون آ گیا‘ مجھے ان کی آواز میں کم زوری سی محسوس ہوئی‘ انہوں نے بتایا یہ بدقسمتی سے پراسٹیٹ کینسر میں مبتلا ہو گئے ہیں‘ میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔

ملک صاحب نے بتایا یہ بڑے عرصے سے کمر درد کا شکار تھے اور ڈاکٹر کمر کا علاج کرتے رہے‘ یہ لاہور میں جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے گئے‘ رکوع کے لیے جھکے تو سیدھے نہ ہو سکے‘ ان کا سٹاف انہیں بڑی مشکل سے دفتر لے کر آیا‘ ڈاکٹروں نے ”چک“ کا علاج شروع کر دیا‘ یہ اسلام آباد‘ لاہور اور کراچی کے مختلف ہسپتالوں کے درمیان فٹ بال بنے رہے‘ پھر اچانک راولپنڈی کے ایک ڈاکٹر نے سوچا ہم احتیاطاً کینسر کے ٹیسٹ بھی کر لیتے ہیں‘ ٹیسٹ ہوئے تو پتا چلا یہ پراسٹیٹ کینسر میں مبتلا ہیں۔

بیماری کی بروقت تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے کینسر ہڈیوں میں سرایت کر گیا ہے‘ اب علاج ممکن نہیں‘ ملک صاحب کا کہنا تھا ”ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے‘ مجھے اچانک خیال آیا تم پوری دنیا پھرتے رہتے ہو‘ شاید تمہارے ذہن میں کوئی ڈاکٹر یا علاج ہو“ مجھے محسوس ہوا یہ تنکے کا سہارا لینا چاہتے ہیں لہٰذا میں فوراً تنکا بن گیا‘ میں پراسٹیٹ کینسر کے ہائی کلاس مریضوں سے ملتا رہا تھا چناں چہ میں نے ان سے عرض کیا‘ ملک صاحب آپ اب تین چیزیں پلے باندھ لیں۔

یہ مرض موذی ہے‘دو‘ اس کا یورپ اور امریکا کے علاوہ کسی جگہ علاج ممکن نہیں‘ آپ نے جو بھی پراپرٹی بنائی یا جمع کی آپ وہ فوراً بیچیں اور باہر سے علاج کرائیں اور آخری بات آپ مجھے جو کہیں گے جہاں کہیں گے میں آپ کے ساتھ جاؤں گا‘ میں کروں گا‘ مجھے دوسری طرف سے خوشی کی سانس سنائی دی‘ میں نے اس کے بعد مختلف ڈاکٹروں کو ان کی رپورٹس بھجوائیں‘ ہائی پروفائل مریضوں سے بھی بات کی مگر صورت حال حوصلہ افزاء نہیں تھی‘ ملک صاحب اس دوران مجھ سے ملنے سے بھی پرہیز کر رہے تھے۔

میں نے جب بھی ملاقات کی خواہش ظاہر کی ان کا کہنا تھاذرا میری طبیعت سنبھل جائے تو پھر ملتے ہیں‘ یہ بار بار کہتے تھے چودھری تم پر اللہ کا بہت کرم ہے‘ زندگی صرف تم ہی گزار رہے ہو‘ کوئی لمحہ‘ کوئی سیکنڈ فالتو نہیں‘ کام یا پھر سفر‘ کیا بات ہے‘ کاش میں بھی یہ کر سکتا‘ یہ کہتے تھے ”اللہ تعالیٰ نے اگر مجھے صحت دی تو میں باقی زندگی تمہارے ساتھ وقف کر دوں گا‘ تم جہاں جاؤ گے میں تم سے پہلے وہاں پہنچوں گا‘میں جواب میں ان شاء اللہ کہتا تھا لیکن شاید اللہ کو منظور نہیں تھا‘ میں پچھلے ہفتے تین دن کے لیے پیرس گیا‘ واپس آیا تو مسعود ملک نہیں تھے‘ یہ چپ چاپ زندگی کی سرحد پار کر گئے تھے۔

میں نے واپسی پر ان کا نمبر ڈائل کیا‘ میرا خیال تھا شاید ان کے نمبر پر ان کی چند بچی کھچی آوازیں‘ چند جوش سے بھری سانسیں اور چند نامکمل حسرتیں موجود ہوں لیکن نمبر بند تھا اور دوسری طرف سے زنانہ آواز میں بتایا جا رہا تھا‘ آپ کا مطلوبہ نمبر فی الحال بند ہے‘ آپ تھوڑی دیر بعد رابطہ کیجیے گا‘ میں نے فون بند کیا اور لمبی سانس بھر کر کہا‘ یہ تھوڑی دیر تھوڑی بھی نہیں اور دیر بھی نہیں‘ یہ زندگی اور موت کا فاصلہ ہے‘آج تک اس فاصلے کو کوئی نہیں ماپ سکا‘ لوگ دنیا سے بالآخر چلے جاتے ہیں‘ صرف یادیں اور حسرتیں رہ جاتی ہیں اور یہ بے چاری بھی آخر کتنی دیر باقی رہتی ہیں‘ یہ بھی آہستہ آہستہ بجھ جاتی ہیں۔


زیرو پوائنٹ

ڈیڈ اینڈ

ارنسٹ ہیمنگ وے نوبل انعام یافتہ ادیب تھا اور یہ دہائیوں سے انسانی فکر کو متاثر کررہا ہے‘ ہم میں سے کم لوگ جانتے ہیں ہیمنگ وے نے اپنا کیریئر صحافی کی حیثیت سے شروع کیا تھا‘ یہ وار رپورٹر تھا‘ محاذ جنگ سے ڈائری لکھتا تھا اور لاکھوں لوگ اس کی تحریروں کا انتظار کرتے تھے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

ارنسٹ ہیمنگ وے نوبل انعام یافتہ ادیب تھا اور یہ دہائیوں سے انسانی فکر کو متاثر کررہا ہے‘ ہم میں سے کم لوگ جانتے ہیں ہیمنگ وے نے اپنا کیریئر صحافی کی حیثیت سے شروع کیا تھا‘ یہ وار رپورٹر تھا‘ محاذ جنگ سے ڈائری لکھتا تھا اور لاکھوں لوگ اس کی تحریروں کا انتظار کرتے تھے‘ اس ....مزید پڑھئے‎