اتوار‬‮ ، 01 فروری‬‮ 2026 

وہ جو دولت کے ہاتھوں خرچ ہو گیا

datetime 6  ستمبر‬‮  2015 |

رہ گئے اور یہ وہیں انتقال فرما گئے‘ ڈاکٹر صاحب کا انتقال دسمبر 1947ءمیں لندن میں ہوا‘ ان کی بڑی صاحبزادی نواب بیگم کی شادی ڈاکٹر قیوم پاشا کے ساتھ ہوئی‘ ڈاکٹر قیوم پاشا وہ شخصیت تھے جنہیں انگریز سرکار نے پیر صاحب پگاڑا (سید شاہ مردان شاہ) اور ان کے چھوٹے بھائی نادر شاہ کا اتالیق مقرر کیا تھا‘ دوسری صاحبزادی ارشاد فاطمہ کی شادی ایڈمرل یو اے سعید کے ساتھ ہوئی‘ ایڈمرل سعید جنرل یحییٰ خان کے قریبی دوست تھے‘ یہ پاکستان میں نیشنل شپنگ کارپوریشن کے بانی بھی تھے‘ تیسری صاحبزادی ڈاکٹر اعجاز فاطمہ کی شادی ڈاکٹر تجمل حسین کے ساتھ ہوئی‘ ڈاکٹر تجمل پنجابی تھے‘ یہ ڈاکٹر اعجاز فاطمہ کے کلاس فیلو تھے‘ یہ دونوں انتہائی نفیس‘ پڑھے لکھے اور درد دل رکھنے والے لوگ تھے‘ ان کے چار بچے تھے‘ دوبیٹے اور دو بیٹیاں۔ دو بیٹے اور ایک بیٹی ڈاکٹر ہیں‘ بیٹی کراچی کی مشہور گائنا کالوجسٹ ہیں‘ دوسری بیٹی ڈاکٹر ضیاءالدین ہسپتال کی ایڈمنسٹریٹر ہیں جبکہ ایک بیٹے کا نام ڈاکٹر عاصم حسین ہے اور یہ اس وقت کرپشن کے سنگین الزامات بھگت رہے ہیں۔
ہم اب شجرئہ نسب کو یہاں روک کر کہانی کے تین کرداروں ڈاکٹر ضیاءالدین‘ ڈاکٹر اعجاز فاطمہ اور ڈاکٹر عاصم حسین کو ڈسکس کرتے ہیں‘ سر ڈاکٹر ضیاءالدین احمد کمال شخصیت کے مالک تھے‘ میں آپ کو ڈاکٹر صاحب کا تعلیمی بیک گراﺅنڈ گزشتہ کالم ”آپ نے کیا پایا‘کیا کمایا“ میں گوش گزار کر چکا ہوں‘ میں آج ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کے تین پہلو سامنے رکھتا ہوں‘ پاکستان جب ناگزیر ہو گیا تو ڈاکٹر صاحب نے محسوس کیا ہمارے نئے ملک کو بیورو کریٹس کی ضرورت ہو گی جبکہ مسلمانوں میں ڈگری ہولڈر بہت کم ہیں‘ ڈاکٹر صاحب نے اس کا دلچسپ حل نکالا‘ انہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی میں سپلی مینٹری امتحانات شروع کرا دیئے‘ پاکستان بننے سے قبل علی گڑھ یونیورسٹی نے تین سپلی مینٹری امتحانات لئے اور ان امتحانات سے ہزاروں مسلمان گریجویٹ نکلے‘ یہ گریجویٹ بعد ازاں پاکستان کی سول بیورو کریسی کا حصہ بنے‘ ڈاکٹر صاحب اگر یہ اینی شیٹو نہ لیتے تو نوزائیدہ پاکستان کو کلرک تک نہ ملتے اور یوں یہ ملک جنم لیتے ہی بیورو کریٹک کرائسس کا شکار ہو جاتا‘ ڈاکٹر صاحب کو اپنی نیند پر بے انتہا کنٹرول تھا‘ یہ بیٹھے بیٹھے کہتے تھے‘ میں اب ذرا آٹھ منٹ کےلئے سستانے لگا ہوں اور وہ یہ فقرہ کہتے کہتے گہری نیند میں چلے جاتے اور ٹھیک آٹھ منٹ بعد بیدار ہو جاتے‘ وہ ذہنی طور پر ہمہ وقت مگن رہتے تھے‘ ان کے بارے میں ایک واقعہ مشہور تھا‘ وہ ایک دن سونے کےلئے کمرے میں گئے‘ اپنی چھڑی کو بستر پر لٹا دیا اور خود دروازے کے ساتھ کھڑے ہو کر سو گئے‘ نیند پوری کر کے بیدار ہوئے تو خود کو دروازے کے ساتھ اور چھڑی کو بستر پر دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ڈاکٹر اعجاز فاطمہ بھی اپنے والد کی طرح درد دل رکھنے والی خاتون ہیں‘ میاں بیوی نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ناظم آباد میں ہسپتال



کالم



اصفہان میں دو دن


کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…