جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

معمولی سی توجہ

datetime 15  مئی‬‮  2015 |

یہ لائیٹس انرجی کے مطابق جلتی ‘بجھتی اور رنگ بدلتی ہیں‘ آسٹریا نے اپنے پیولین میں گھنا سیاہ جنگل اگا رکھا ہے‘ آپ جنگل میں گم ہو کر رہ جاتے ہیں‘ یہ جنگل کے ذریعے دنیا کو آکسیجن کی افادیت اور گلوبل وارمنگ سے بچاﺅ کا پیغام دیتے ہیں‘ چین نے طویل و عریض پیولین میں پھولوں کی گھنی کیاریاں لگا رکھی ہیں‘ آپ جوں ہی پیولین کے قریب پہنچتے ہیں آپ کو گیندے کی خوشبو مسحور کر دیتی ہے‘ جاپان کا پیولین لکڑی کے لاکھوں ٹکڑے جوڑ کر بنایا گیا‘ لیتھونیا نے پوراپیولین لکڑی کے لاکھوں ٹکڑے جوڑ کر بنایااور برازیل کا پیولین جنگل‘ روشنی اور ٹیکنالوجی تینوں کا مجموعہ ہے‘ یہ ایکسپو ایک لائف ٹائم تجربہ ہے‘ آپ کو وہاں دنیا کی تمام قومیتوں کے لوگ ملتے ہیں‘ آپ دنیا بھر کی ثقافت‘ موسیقی اور کھانوں سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں‘ آپ پاکستان کی بدقسمتی دیکھئے ہم اس نمائش سے بھی غیر حاضر ہیں‘ پاکستان ایکسپو کا رکن ملک ہے لیکن اٹلی کی خواہش اور کوشش کے باوجود ہم نے وہاں اپنا پیولین نہیں بنایا‘ ہم اگر پیولین بناتے تو اس سے پاکستان کے گلوبل امیج میں بہتری آتی‘ ہماری حکومت کو ایسے مواقع ضائع نہیں کرنے چاہئیں‘ وزیراعظم کو چاہیے یہ ملک میں ایک ایکسپو باڈی بنائیں‘ یہ باڈی ایکسپو کےلئے درجن بھر ڈیزائن بنا ئے اور دنیا میں جہاں نمائش ہو یہ وہاں پاکستان کا سٹال یا پیولین لگائے‘ اس سے بین الاقوامی سطح پر ہمارا امیج بہتر ہو گا۔
بریشیا میلان سے 45 منٹ کی ڈرائیو پر واقع ہے‘ یہ اٹلی کا ”سٹیل سٹی“ ہے‘ شہر سے باہر لوہے اور مختلف دھاتوں کے درجنوں کارخانے اور سٹیل ملز ہیں‘ آپ کو وہاں دور دور تک کارخانے دکھائی دیتے ہیں‘ انڈسٹری کا اطالوی ماڈل دلچسپ بھی ہے اور کارآمد بھی۔ اطالوی حکومت نے بڑے شہروں کے گرد آباد دیہات کو انڈسٹریل زون میں تبدیل کر دیا‘ دیہات میں انڈسٹری لگی اور اس انڈسٹری کی وجہ سے پورے علاقے کی ہیئت تبدیل ہو گئی‘ گاﺅں شہر بن گئے‘ وہاں سڑکیں بنیں‘ ریلوے کی پٹڑی بچھی‘ شاپنگ سنٹر بنے اور ہسپتال اور سکول قائم ہوئے‘ یہ دیہات آج صرف کہنے کی حد تک گاﺅں ہیں جبکہ حقیقت میں یہ پورے شہر ہیں‘ میلان اٹلی کا سب سے بڑا انڈسٹریل سٹی ہے‘ اس میں دو ہزار فیکٹریاں ہیں‘ یہ فیکٹریاں دیہات میں قائم ہیں‘ آپ میلان کے اطراف میں کسی طرف نکل جائیں‘ آپ کو سینکڑوں میل تک چمنیاں نظر آتی ہیں‘ میں طویل عرصے سے ”کنالی“ کی فیکٹری دیکھنا چاہتا تھا۔ یہ مردانہ سوٹس میں دنیا کا دوسرا بڑا برانڈ ہے‘ یہ برانڈ کنالی فیملی نے 1934ء میں قائم کیا‘ آج خاندان کی تیسری نسل اس کاروبار سے وابستہ ہے‘ کنالی کی فیکٹری اور آﺅٹ لیٹ سوویکو گاﺅں میں ہے‘ یہ پورا گاﺅں ”کنالی“ سے منسلک ہے‘ گاﺅں کے آدھے لوگ فیکٹری میں کام کرتے ہیں یا فیکٹری کےلئے کام کرتے ہیں‘ ان لوگوں میں میرے شہر لالہ موسیٰ کے ایک صاحب بھی شامل ہیں‘ شکیل قریشی دس سال سے کنالی سے وابستہ ہےں‘ یہ مجھے وہاں ملے اور میں ان کی استقامت کو داد دیئے بغیر نہ رہ سکا‘ بریشیا شہر کے اردگرد دیہات میں بھی سینکڑوں فیکٹریاں ہیں‘ ان فیکٹریوں میں 20 ہزار پاکستانی کام کرتے ہیں‘ یہ لوگ زیادہ تر لوہے کی فیلڈ سے وابستہ ہیں‘ اٹلی میں پاکستانیوں کی کل تعداد ایک لاکھ چھ ہزار ہے‘ 28 ہزار پاکستانی صرف بریشیا میں رہتے ہیں‘ اتوار کے دن بریشیا میں پاکستانی کمیونٹی کا فنکشن تھا‘ یہ تقریب پاکستان اوورسیز الائنس فورم نے منعقد کی ‘ برادرم اعجاز پیارا تقریب کے روح رواں تھے جبکہ تمام انتظامات کی ذمہ داری اجمل خان نے اٹھا رکھی تھی‘ اجمل خان پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھتے ہیں‘ میاں نواز شریف کے متوالے ہیں‘ یہ میاں صاحب پر جان اور مال دونوں نثار کرنے کےلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں‘ یہ سب کچھ برداشت کر لیتے ہیں لیکن



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…