ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

با ب کعبہ کے دائیں جانب سنگ مرمر کے 8 مختلف جسامت کے ٹکڑے کیوں نصب ہیں؟

datetime 22  جنوری‬‮  2017 |

مکہ مکرمہ (مانیٹرنگ ڈیسک) غیر ملکی خبر رساں ادارے العریبہ ڈاٹ نیٹ میں چھپنے والی رپورٹ میں باب کعبہ کے ساتھ متصل سنگ مرمر کے آٹھ ٹکڑوں کی تاریخ کے بارے میں بتایا گیا ہے جن کے بارے میں شاید بہت ہی کم لوگ جانتے ہونگے۔ بھورے زردی مائل رنگ کے پتھر ایک اندازے کے مطابق 8 سو سال سے زائد عرصے سے نصب ہیں اور انھیں

’میری سٹون‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مورخین کا کہنا ہے کہ سنگ مرمر کے یہ 8 ٹکڑے باب کعبہ کے قریب المعجن کے مقام پر نصب ہیں۔ صحن مطاف میں یہ جگہ نیچے کی سمت میں ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق یہاں پر جبریل علیہ السلام نے بعث نبوی کے بعد پہلی بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز سکھائی تھی۔ معجن سفید رنگ کی ریت سے تیار کی گئی ہے اور اس کے نیچے یہ آٹھ ٹکڑے نصب ہیں۔ سنہ 1213ھ سے 1377ھ تک یہ پتھر چوری ہو گئے تھے۔ معجن کی جگہ چونکہ کافی تنگ ہے اور وہاں پر ایک وقت میں صرف ایک ہی شخص کھڑا ہو کر نماز پڑھ سکتا ہے، اس لیے وہاں سے یہ پتھر ہٹا کر شاذروان میں باب کعبہ کے پہلو میں لگا دیے گئے تھے۔حرمین شریفین کے امور کے محقق محیی الدین الھاشمی کا العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سنگ مرمر کے یہ ٹکڑے عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے مسجد حرام کے لیے ہدیہ کیے تھے۔ انہوں نے یہ پتھر صحن مطاف کی مرمت کے وقت 631 ہجری میں دیے۔ سنگ مرمر کے نیلے رنگ کے پتھر پر اس کی تاریخ درج ہے۔ الھاشمی نے کہا کہ باب کعبہ سے متصل ان سنگ مرمر کے ٹکڑوں پر شاندار نقش ونگار اور پھول بوٹے بنائے گئے ہیں۔ حجم میں یہ ٹکڑے برابر نہیں بلکہ الگ الگ جسامت کے ہیں۔ ان میں سے بڑا ٹکڑا 33 سینٹی میٹر لمبا اور 21 سینٹی میٹر چوڑا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…