واشنگٹن /تہران (این این آئی)ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران جنگ کے 68 ویں دن اہم پیش رفت سامنے آئی ہے
جس کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف جارحانہ فوجی مرحلہ ختم ہو چکا ہے تاہم ضرورت پڑنے پر کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت کے لیے شروع کیا گیا فوجی آپریشن عارضی طور یہ کہتے ہوئے پر روک دیا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدے میں نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے۔عرب میڈیا کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکا ایران پر دبائو کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے، ایران یک طرفہ مطالبات قبول نہیں کرے گا دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ امریکا کی 14 نکاتی امن تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔واضح رہے کہ امریکی حکام اور وائٹ ہائوس کے قریبی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ خاتمے اور ایٹمی مذاکرات کے نئے فریم ورک پر اتفاق کے لیے ایک صفحے کی مفاہمتی یادداشت (MOU) تیار کر لی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق فریقین اس وقت معاہدے کے اتنے قریب ہیں جتنا جنگ کے آغاز سے اب تک کبھی نہیں رہے تھے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکا کو اگلے 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے چند اہم نکات پر حتمی جواب کا انتظار ہے، اگرچہ ابھی کسی دستاویز پر دستخط نہیں ہوئے، لیکن صدر ٹرمپ کے قریبی مشیر جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف ایرانی حکام سے براہِ راست اور ثالثوں کے ذریعے مسلسل رابطے میں ہیں۔ایگزیوز کے مطابق مجوزہ معاہدے میں درج ذیل نکات موجود ہیںجن میں کہاگیاکہ جنگ کا خاتمہ،ایم او یو پر دستخط ہوتے ہی خطے میں جنگ کے خاتمے کا اعلان کر دیا جائے گا۔معاہدے کے بعد 30 دنوں کے اندر اسلام آباد یا جنیوا میں تفصیلی مذاکرات ہوں گے جن میں پابندیوں کے خاتمے اور ایٹمی پروگرام پر حتمی بحث ہو گی۔آبنائے ہرمز 30 روزہ مدت کے دوران ایران کی جانب سے جہاز رانی پر پابندیاں اور امریکا کا بحری محاصرہ بتدریج ختم کر دیا جائے گا۔ایٹمی پروگرام پر پابندی کے حوالے سے کہاگیاکہ ایران 12 سے 15 سال تک یورینیئم کی افزودگی روکنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ امریکا 20 سال کا مطالبہ کر رہا ہے۔



















































