ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

طالبان حکومت میں افغانستان کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی، سابق وزیر خزانہ کا بڑا انکشاف

datetime 26  جنوری‬‮  2026 |

کابل(این این آئی)افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کی معیشت شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے اور ماہرین مستقبل کو مزید تاریک قرار دے رہے ہیں۔سابق افغان وزیر خزانہ انوار الحق احدی نے افغانستان انٹرنیشنل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں طالبان حکومت کے معاشی ترقی سے متعلق دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔انوار الحق احدی کے مطابق افغانستان میں سرمایہ کاری کے لیے نہ تو کوئی واضح قانونی فریم ورک موجود ہے اور نہ ہی ریاستی ادارے آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ اہم اداروں پر طالبان حمایت یافتہ افراد کی اجارہ داری ہے جس کے باعث سرمایہ کار عدم تحفظ کا شکار ہیں۔سابق وزیر خزانہ نے انکشاف کیا کہ ملک میں سرمایہ کاروں کے لیے نہ مناسب سیکیورٹی دستیاب ہے اور نہ ہی تربیت یافتہ انسانی وسائل موجود ہیں، جس کے باعث سرمایہ کاری کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی پابندیاں اور واضح معاشی پالیسیوں کی عدم موجودگی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں دہشت گردی اور خراب معاشی حالات کے باعث بے روزگاری کی شرح 75 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں سرگرم دہشت گرد گروہ نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ طالبان کے زیرِ کنٹرول افغانستان کو 2026 میں ایک بڑے معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق طالبان کی ناقص پالیسیاں ملک میں سیکیورٹی، انسانی اور معاشی بحران کی بنیادی وجہ ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ طالبان کی عسکریت پسندانہ پالیسیوں کے باعث افغانستان کے پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…