جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

بھارت نے کٹھ پتلی حسینہ واجد کے ویزے میں توسیع کردی

datetime 11  جنوری‬‮  2025 |

نئی دہلی(این این آئی) بھارت نے کٹھ پتلی حسینہ واجد کے ویزے میں توسیع کردی۔بنگلا دیش کی عبوری حکومت نے 7 جنوری کو شیخ حسینہ کا جبری گمشدگیوں اور ہلاکتوں میں ملوث ہونے کے باعث پاسپورٹ منسوخ کر دیا تھا،بنگلا دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے معصوم شہریوں کی نسل کشی میں ملوث ہونے پر حسینہ واجد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے ، دوسری جانب بھارت نے سزا کے ڈر سے کٹھ پتلی حسینہ واجد کے ویزہ میں توسیع کر دی۔بنگلا دیش کی عبوری حکومت نے بھارت کی جانب سے شیخ حسینہ کے ویز ہ میں توسیع سے متعلق میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاسپورٹ منسوخ ہونے کے بعد ویزے کا معاملہ ختم ہوجاتا ہے، 1971سے لے کر شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹنے تک بنگلا دیش میں بھارتی مداخلت جاری رہی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلا دیش میں عوامی نقلاب کے نتیجے میں مودی کی کٹھ پتلی حسینہ واجد بھارت فرار ہوئی تھیں، بھارت فرار ہونے کے بعد بنگلا دیش میں حسینہ واجد کی ظالمانہ پالیسیوں اور سیاست کا مکمل طور پر اختتام ہوا ، شیخ حسینہ پر قتل، کرپشن اور بدعنوانی کے 31 مقدمات ہیں، ان مقدمات میں قتل کے 26 جبکہ نسل کشی کے 4 مقدمات شامل ہیں۔بنگلا دیشی میڈیا کے مطابق شیخ حسینہ کی غداری اور مسلم دشمنی کی واضح مثالیں موجود ہیں، 2014 میں شیخ حسینہ نے اپوزیشن پارٹی کے لیڈر کو محض جماعت اسلامی کا حصہ ہونے پر نظر بند کر دیا ، شیخ حسینہ نے اپنے دور اقتدار میں جماعت اسلامی کے متعدد رہنماؤں کو جھوٹے اور من گھڑت دہشتگردی کے مقدمات میں پھانسیاں دیں۔رپورٹس میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان کی نفرت میں اور مودی کے سائے تلے شیخ حسینہ نے اپنی ہی عوام پر ظلم کا بازار گرم کر رکھا تھا ، حسینہ واجد کے ویزہ میں توسیع کر کے مودی سرکار ا?ج بھی بنگلا دیشی عوام کو انصاف کے حصول سے محروم کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…