جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

امریکا: پاکستانی ڈاکٹر نے مریض کو خنزیر کا دل لگا دیا

datetime 11  جنوری‬‮  2022 |

کراچی(این این آئی)امریکا میں پاکستان کے ڈاکٹر منصور محی الدین نے میڈیکل سائنس کی دنیا میں کارنامہ انجام دیتے ہوئے ایک دل کے مریض کے سینے میں خنزیر کا دل لگا دیا۔یونیورسٹی آف میری لینڈ اسکول آف میڈیسن کے مطابق ایک مریض میں کامیابی سے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خنزیر کا دل لگایا گیا ہے۔ڈائو میڈیکل یونیورسٹی کراچی سے گریجویشن کرنے والے ڈاکٹر منصور محی الدین نے

اس ضمن میں بتایا کہ ابتدائی تجربات میں بندر کا دل لگایا جاتا تھا۔انہوں نے بتایاکہ بندر کا دل پیوند کاری میں مفید ثابت نہ ہوا، جبکہ خنزیر پر تجربہ مفید رہا۔بالٹی مور کے اسپتال میں 7 گھنٹے طویل آپریشن کے ذریعے 57 سالہ امریکی شہری ڈیوڈ بینیٹ کے سینے میں جینیاتی طور پر تبدیل کیا گیا خنزیر کا دل پیوند کیا گیا۔آپریشن کے 3 دن بعد ڈیوڈ بینیٹ صحت کی طرف گامزن ہیں، یہ ٹرانسپلانٹ مسٹر بینیٹ کی زندگی بچانے کے لیے آخری امید سمجھا جاتا ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ یہ آپریشن کتنے عرصے تک زندگی بچانے میں کامیاب رہے گا۔ڈیوڈ بینیٹ نے اس حوالے سے بتایاکہ یا تو مرنا تھا یا یہ ٹرانسپلانٹ کرانا تھا اس کے سوا میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ آپریشن اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے، مگر یہ میرے پاس جینے کے لیے واحد اور آخری راستہ تھا۔امریکی میڈیکل ریگولیٹر کی جانب سے ڈیوڈ بینیٹ کی زندگی بچانے کیلیے یونیورسٹی آف میری لینڈ میڈیکل سینٹر کے ڈاکٹروں کو اس آپریشن کی خصوصی اجازت دی گئی تھی۔اس سے قبل امریکی حکام کی جانب سے خنزیر کے دل کی انسانی سینے میں پیوندکاری کو ناکام قرار دیا جا چکا ہے۔اس ٹرانسپلانٹ کو انجام دینے والی میڈیکل ٹیم کی برسوں کی یہ تحقیق اور اس کے نتائج دنیا بھر میں زندگیوں کو بدل سکتے ہیں۔یونیورسٹی آف میری لینڈ اسکول آف میڈیسن کے سرجن بارٹلی گریفتھ کے مطابق انسانی جسم میں خنزیر کے دل کی پیوند کاری دنیا کو اعضا کی کمی کے بحران کو حل کرنے کی جانب ایک قدم ثابت ہو گی۔انہوں نے کہا کہ امریکا میں 1 دن میں 17 افراد ٹرانسپلانٹ کے انتظار میں مر جاتے ہیں، جبکہ پیوند کاری کے لیے اعضا کا انتظار کرنے والے مریضوں کی تعداد 1 لاکھ سے زائد ہے۔واضح رہے کہ ٹرانسپلانٹیشن کے لیے جانوروں کے اعضا کے استعمال کے امکان پر طویل عرصے سے غور کیا جا رہا ہے جبکہ خنزیر کے دل کے والوز کا انسانی جسم میں استعمال پہلے سے ہی عام ہے۔آپریشن کے بعد صحت کی جانب گامزن ڈیوڈ بینیٹ کو امید ہے کہ ان کا یہ ٹرانسپلانٹ انہیں زندگی کو رواں دواں رکھنے میں مدد دے گا، وہ سرجری سے قبل 6 ہفتوں تک بستر پر ایک مشین سے منسلک رہے جو انہیں زندہ رکھنے میں مدد گار تھی۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…