جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ماں کے دودھ سے کووڈ 19 سے بچانے والی اینٹی باڈیز بچوں میں منتقل ہوتی ہیں، تحقیق

datetime 28  ستمبر‬‮  2021 |

واشنگٹن(این این آئی)کووڈ 19 کا شکار ہونے والی خواتین 10 ماہ تک اپنے دودھ کے ذریعے وائرس کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز بچوں تک منتقل کرتی رہتی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔مائونٹ سینائی ہاسپٹل کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ماں کی جانب سے بچے کو دودھ پلانا انہیں بیماری سے بچانے میں

مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔محققین کا ماننا ہے کہ بیماری سے بننے والی اینٹی باڈیز ماں کے دودھ کے ذریعے بچے میں منتقل ہوکر انہیں تحفظ فراہم کرتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ جاننا ضروری تھا کہ ماں کے دودھ میں اینٹی باڈیز ہوتی ہیں یا نہیں، بیماری کے بعد کتنے عرصے تک تحفظ ملتا ہے۔ماں کے دودھ میں موجود اینٹی باڈیز خون اور ویکسینیشن سے متحرک ہونے والی آئی جی جی اینٹی باڈیز سے کسی حد تک مختل ہوتی ہیں۔یہ اینٹی باڈیز بچوں کے نظام تنفس اور آنتوں میں رہ کر وائرسز اور بیکٹریا کو جسم میں داخل ہونے سے روکتی ہیں۔اس سے پہلے بھی محققین نے ماں کے دودھ میں کورونا وائرس کے خلاف مزاحمت کرنے والی اینٹی باڈیز کو دریافت کیا تھا مگر یہ واضح نہیں تھا کہ وہ وائرس کو ناکارہ بناسکتی ہیں یاا نہیں یا بیماری کے کتنے عرصے بعد تک خواتی کا جسم یہ اینٹی باڈیز تیار کرتا ہے۔اس کی جانچ پڑتال کے لیے محققین نے 75 خواتین کے دودھ کے نمونوں کو اکٹھا کیا جو کووڈ 19 کو شکست دے چکی تھیں۔انہوں نے دریافت کیا کہ 88 فیصد میں آئی جی اے اینٹی باڈیز موجود تھیں اور زیادہ تر کورونا وائرس کو ناکارہ بنانے کی صلاحیت بھی رکھتی تھیں۔مزید تحقیق سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ خواتین میں یہ اینٹی باڈیز بننے کا عمل 10 ماہ تک جاری رہتا ہے۔محققین نے بتایا کہ اگر خواتین بریسٹ فیڈنگ کا سلسلہ جاری رکھے تو وہ بچے میں یہ اینٹی باڈیز اس ذریعے سے منتقل کرسکتی ہیں۔محققین نے ایک الگ تحقیق میں بچوں کو دودھ پلانے والی ایسی خواتین کو شامل کیا تھا جن کی فائزر، موڈرنا یا جانسن اینڈ جانسن ویکسینز سے ویکسینیشن ہوچکی تھی۔موڈرنا ویکسین استعمال کرنے والی تمام جبکہ فائزر ویکسین استعمال کرنے والی 87 فیصد خواتین کے دودھ میں کورونا وائرس سے متعلق آئی جی جی اینٹی باڈیز موجود تھیں جبکہ جانسن اینڈ جانسن استعمال کرنے والی 38 فیصد خواتین میں ان اینٹی باڈیز کو دیکھا گیا۔اب تحقیقی ٹیم کی جانب سے ایسٹرا زینیکا ویکسین سے ماں کے دودھ سے ہونے والے اینٹی باڈی ردعمل کی تحقیق کی جارہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…