جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بچوں میں کووڈ کا خطرہ بالغ افراد کے مقابلے میں کتنے فیصد کم ہوتا ہے؟طبی تحقیق میں اہم انکشاف

datetime 18  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)بالغ افراد کے مقابلے میں بچوں میں کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوتا ہے۔یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔طبی جریدے پلوس میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ 20 سال سے کم عمر افراد میں اس بیماری کا خطرہ بالغ افراد کے مقابلے میں 50 فیصد تک کم ہوتا ہے،یہ تو کورونا وائرس

کی وبا کے آغاز سے ہی واضح ہے کہ بچوں اور نوجوانوں میں کووڈ 19 کے اثرات بالغ افراد کے مقابلے میں مختلف ہوتے ہیں۔بچوں میں کووڈ کی شرح بہت کم ہے اور جن کو اس بیماری کا سامنا ہوتا ہے، ان میں شدت بھی عام طور پر معمولی ہوتی ہے۔نئی تحقیق میں اسرائیل میں 637 گھرانوں میں وائرس کے پھیلاؤ کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی،ان گھرانوں کے تمام افراد کے پی سی آر ٹیسٹ ہوئے اور کچھ افراد کے اینٹی باڈی ٹیسٹ بھی کیے گئے۔محققین نے پھر ان نتائج کو لیا اور مختلف عناصر کو مدنظر رکھتے ہوئے آبادی میں مجموعی کیسز اور پھیلاؤ کی شرح کا تعین کیا۔نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ بچوں میں کووڈ 19 کا پھیلاؤ بالغ افراد کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے اور بالغ افراد کے مقابلے میں بچوں کی جانب سے وائرس کو آگے پھیلانے کی صلاحیت 63 فیصد ہوتی ہے۔محققین نے دریافت کیا کہ بالغ افراد کے مقابلے میں بچوں میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا امکان 43 فیصد ہوتا ہے،اسی طرح بچوں میں مثبت پی سی آر

ٹیسٹوں کا امکان بھی کم ہوتا ہے اور نتائج سے وضاحت ہوتی ہے کہ دنیا بھر میں بچوں میں اس بیماری کی شرح بہت کم کیوں ہے۔امریکا کے سینٹ جونز ہیلتھ سینٹر کے ماہر امراض اطفال ڈاکٹر رابرٹ ہیملٹن نے بتایا کہ ایک سال تک اس وبا کی مانیٹرنگ کے بعد ڈیٹا سے واضح

ہوتا ہے کہ بچے کافی حد تک اس بیماری سے محفوظ ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ایک کے بعد ایک تحقیق میں ثابت ہوا کہ مجموعی کیسز میں بچوں اور نوجوانوں کی تعداد ایک سے 3 فیصد تک ہے اور ان میں سے بھی بہت کم کو ہسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت پڑی۔ابھی یہ

مکمل طور پر واضح نہیں کہ بچوں میں یہ بیماری بالغ افراد کی طرح اثرات مرتب کیوں نہیں کرتی۔ایک خیال یہ ہے کہ ان کے نتھنوں کی نشوونما کا عمل جاری ہوتا ہے، جبکہ کچھ شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ بچوں میں ایس 2 ریسیپٹرز کی تعداد بالغ افراد کے مقابلے میں کم ہوتی ہے، جو

کورونا وائرس کو خلیات میں داخلے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔اسی طرح سائنسدانوں کا یہ بھی خیال ہے کہ بچوں میں دیگر سیزنل کورونا وائرسز (نزلہ زکام کا باعث بننے والے وائرسز) کے خلاف مدافعت کی شرح بالغ افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔اسی طرح بچوں میں وٹامن ڈی اور میلاٹونین کی سطح بھی کسی حد تک تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…