جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی تحقیقاتی ادارے نے فاروق عبداللہ کے کروڑوں روپے مالیت کے اثاثے ضبط کرلئے

datetime 20  دسمبر‬‮  2020 |

سرینگر(این این آئی) غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں سابق کٹھ پتلی وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کے 11 کروڑ86لاکھ روپے مالیت کے اثاثے ضبط کرلئے ہیں۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تحقیقاتی ادارہ منی لانڈرنگ کے معاملے کی تحقیقات کررہا ہے

جو جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن میں مالی بے ضابطگیوں سے متعلق ہے ۔ ادارے نے کچھ دیگر افراد پر بھی اسی طرح کے الزامات عائد کیے ہیں۔تحقیقاتی ادارے نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کے تحت ضبطی کا عارضی آرڈر جاری کیا ہے اور مذکورہ جائیداد جموں اور سرینگر میں واقع ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے رواں سال اکتوبر میں آخری بار اس کیس کے سلسلے میں این سی رہنما سے پوچھ گچھ کی تھی جس سے ایک سیاسی طوفان کھڑا ہوگیاتھا کیونکہ سیاسی جماعتوں نے اسے دفعہ 370 کی بحالی کے لئے سیاسی اتحاد کے قیام پر انتقامی کارروائی قرار دیا تھا۔دریں اثنا ء نیشنل کانفرنس نے ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کی جائیداد کی ضبطی کوسیاسی انتقام قراردیا جس کا مقصدسیاسی مسائل طے کرنا ہے۔ پارٹی رہنمائوں علی محمد ساگر ، ناصر اسلم وانی ، دیویندر سنگھ رانا ، محمد شفیع ، اے آر راتھر ، چودھری محمد رمضان ، میاں الطاف ، مبارک گل ، محمد اکبر لون ، حسنین مسعودی ، ایس ایس سلاتھیہ ، اجے سدھوترا اور قمر علی آخون نے ایک مشترکہ بیان میں پارٹی قیادت پر مسلسل حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی حرکتیں غیرضروری اور بلاجواز ہیں۔ انہوںنے کہاکہ یہ اثاثے کئی دہائیاں قبل حاصل کئے گئے ہیں اوران کو ضبط کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ سیاسی انتقام اور قیادت کو کشمیری عوام کی سیاسی امنگوں کی حمایت میں آواز اٹھانے سے روکنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…