ہفتہ‬‮ ، 21 مارچ‬‮ 2026 

سعودی عرب میں ریت کے ٹیلوں پر پانی کے چشموں کے منفرد مناظر

datetime 29  ستمبر‬‮  2020 |

تبوک (این این آئی)سعودی عرب کے شمالی ساحلی شہرتبوک اپنے قدرتی حسن وجمال کی وجہ سے اپنی ایک خاص پہچان رکھتا ہے۔ اس شہر میں ایک طرف ساحل سمندر اور دوسری طرف شدید ڈھلوانوں والے پہاڑ اور ان کے درمیان واقع کہیں تنگ اور کہیں کشادہ وادیاں اور کہیں ریت کے ٹیلے دیدہ وبینا کو دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ کھجور کے سرسبز اور اونچے اونچے درخت ٹیلوں،

پہاڑوں میدانوں کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ہیں مگر قدرتی حسن یہیں ختم نہیں ہو جاتا بلکہ ان ریتلے ٹیلوں پرصاف و شفاف پانی کے ابلتے چشمے اور چھوٹے چھوٹے ندی نالے ایک طلسماتی کیفیت طاری کر دیتے ہیں۔وہاں پر ایک مرکزی مقام ‘مقنا’ ہے جہاں پر اسی نام سے ایک فائن آرٹ کا مرکز قائم ہے۔ یہ مرکز اطراف واکناف کی وادیوں اور ان میں پائے جانے والے خوبصورت مقامات کے مناظر کو کیمروں میں محفوظ کرکے انہیں زائرین اور سیاحوں کے لیے پیش کرتا ہے۔ مقنا کے حسن کی اہم وجہ پہاڑ اور ساحل سمندر کا ایک ساتھ ہونا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے درمیان واقع ریتلے ٹیلے اور ان میں بہتے چشمے ہیں۔ اسی راستے پر تھوڑے فاصلے پر البدع گورنری واقع ہے جہاں بہترین معیار کی کھجوریں اور دوسرے پھل کاشت کیے جاتے ہیں۔مقنا کے شمال میں وادی طیب واقع ہے۔ یہ بلند، سنگلاخ اور شدید ڈھلوان والے پہاڑوں کے درمیان ایک تنگ گذرگاہ ہے۔ اس کا پانی خلیج عقبہ میں گرتا ہے۔ یہ تو اس کے پہاڑوں کا حال ہے۔ وہاں کے ساحل سمندر کا اپنا ہی نظارہ ہے۔ پیراکی کے شوقین اور ماہی گیر یہاں پر اپنا اپنا شوق پورا کرنے آتے اور یہاں کے پرکیف ماحول اور نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔مقنا مرکز کے مشرق میں تاریخی مقنا چشمے واقعے ہیں۔ یہاں پر پرانے زمانے سے ریتلی زمین کے اندر سے چشمے ابلتے چلے آ رہے ہیں۔ ان کے اطراف میں کھجوروں کے باغات ہیں۔ یہ چشمے، ان کے اطراف میں پھیلے پاڑ، ساحل، کھجور کے باغات اور ریت کے ٹیلے سب مل کر سیاحوں کے لیے غیرمعمولی کشش پیدا کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں یہ بحر وبر کی خوبصورتی کا حسین امتزاج ہے۔مقنا کو ساحلی شہر کا درجہ حاصل ہے۔ یہ شہر خلیج عقبہ میں شمالی شہر تبوک کے قریب واقع ہے۔ اس کے ایک طرف حقل اور الشیخ حمید شہر واقع ہیں جب کی مقنا گائوں جسے البدع گورنری بھی کہا جاتا ہے وہاں سے مغرب میں 35 کلومیٹر کی مسافت پر ہے۔ وہاں سے تبوک شہر کا فاصلہ 235 کلو میٹر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…