اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

میرکل کا موازنہ ہٹلر سے، معروف سفیر کو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑگیا

datetime 11  مئی‬‮  2020 |

ہیلنسکی(این این آئی)فن لینڈ میں تعینات مالٹا کے سفیر نے اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں جرمن چانسلرمیرکل کا موازنہ اڈولف ہٹلر سے کرتے ہوئے لکھا کہ میرکل نے ہٹلر کا یورپ کو کنٹرول کرنے کا خواب پورا کر لیا ہے۔مالٹا نے کہا ہے کہ اس معاملے پر برلن سے معذرت کی جائے گی۔ مالٹا کے سفیر مائیکل زامٹ ٹابونا کو مبینہ طور پر مالٹا کی حکومت کی جانب سے ان کی نوکری سے ہٹادیا گیا۔

وہ اس عہدے پر گزشتہ چھ سالوں سے تعینات تھے۔ مالٹا کے وزیر خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ انہوں نے مائیکل زامٹ کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔مائیکل زامٹ نے دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے 75 برس مکمل ہونے پر فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھاکہ 75سال پہلے ہم نے ہٹلر کو روکا تھا، انجیلامیرکل کو کون روکے گا؟ میرکل نے ہٹلر کا خواب پورا کر لیا، یورپ کو کنڑول کرنے کا۔ مالٹا کے میڈیا کے مطابق مائیکل زامٹ نے اس پوسٹ کو ہٹا دیا ہے لیکن وہ اس معاملے پر میڈیا سے گفتگو نہیں کر رہے۔ اخبار کی جانب سے کہا گیا کہ ملکی وزیر خارجہ کے دباؤ پر مائیکل زامٹ نے استعفیٰ دیا۔ اسی اخبار نے مالٹا میں حزب اختلاف کے رہنما ادریان ڈیلیا کا بیان بھی شائع کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ جرمن چانسلر نے کئی معاملات میں مالٹا کا ساتھ دیا ہے اور وہ نازی جرمنی کی شکست کے سات دہائیوں کے بعد یورپ میں استحکام کی ایک بڑی وجہ ہیں۔مالٹا کی چیمبر آف کامرس نے ایک بیان میں کہا کہ مائیکل زامٹ کے بیان نے ملک کے وقار کو نقصان پہنچایا ہے اور ان کے استعفیٰ کے خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ چیمبر آف کامرس کی جانب سے کہا گیاکہ سرکاری افسران اور سفیر وں کو اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے خیال رکھنا چاہیے، کیوں کہ کسی کو ملک کی ساکھ متاثر کرنے کا حق نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…