اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں مسلمانوں کے بعد سکھ برادری کو کورونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرا دیا گیا، سربراہ سکھ مذہبی کمیونٹی ہریپ سنگھ نے مودی سرکار کا چہرہ بے نقاب کردیا

datetime 3  مئی‬‮  2020 |

نئی دہلی( آن لائن )اس وقت پوری دنیا کو کورونا وائرس کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ ہر ملک کی جانب سے اپنی حدود میں رہتے ہوئے کورونا وائرس سے نمٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کے بعد سکھ برادری کو کورونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرا دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ہندو توا نظریے پر عمل پیرا ریاست بھارت اقلیتوں کا جینا حرام کررہی ہے۔

عام حالات میں تو انہیں کبھی ترامیم اور دیگر ایکٹ کی منظوری سے نچلے درجے کا شہری بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تاہم اس لاک ڈان اور ہنگامی حالات کا ذمہ دار بھی بھارت میں موجود اقلیت کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔ پہلے تو بھارت میں مسلمانوں کو کورونا وائر س کے پھیلا کا ذمہ دار قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ تبلیغی جماعتوں میں شریک افراد نے بھارت میں کورونا پھیلایا تاہم اب سکھ برادری پر الزام تراشی کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔سکھ رہنما ہریپ سنگھ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کچھ نڈیڈ سے واپس آنے والے کچھ افراد میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے۔ تاہم اس سے سکھ برادری کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم برادری پر الزامات لگانے کے بعد اب رخ سکھ برادری کی جانب کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دربار سے واپس آںے والے 3000 ہزار میں سے 115 افراد میں کورونا کی نشاندہی کی گئی ہے۔واضح رہے اس سے قبل بھارت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کی نجائے اس کا الزام مسلمانوں پر لگا کر ان کے پیچھے پڑ گیا ہے۔ بھارت کوروناوائرس کی جنگ چھوڑ کر مسلمانوں کے پیچھے پڑ گیا ہے ،بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے ذمہ دار مسلمان ہیں،مسلمانوں کی تبلیغی جماعت دہلی آئی تھی جس کے شرکا مختلف جگہوں پر پھیل گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…