جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

برطانیہ میں پاکستانی برادری کو کورونا سے زیادہ خطرہ ، نئی تحقیق میں ہوشربا انکشافات

datetime 3  مئی‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لندن(این این آئی) ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ برطانیہ میں موجود پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کے دیگر وائٹ برطانویوں کے مقابلے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے اور مرنے کے زیادہ خطرات ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق برطانیہ میں 7 پاکستانی ڈاکٹرز کی ہلاکت کے بعد انسٹیٹیوٹ آف فسکل اسٹڈیز کی ایک نئی جامع تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان نژاد برطانوی اور برطانوی سیاہ فام افریقیوں کی کورونا وائرس سے ہلاکت کی شرح سفید فام کی آبادی کے مقابلے میں 2.5 گنا زیادہ ہے۔

لندن اسکول آف اکانومکس کے پروفیسر لوسنڈا پلیٹ، توس وارسک کی مرتب کردہ مشترکہ رپورٹ، پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی جانب سے اکٹھا کیے گئے ڈیٹا کے تجزیہ میں کہا گیا کہ کورونا وائرس کے تمام ذاتوں پر ایک جیسے اثرات نہیں ہیں۔اس کے کچھ اہم نتائج کے مطابق بلیک کیریبین آبادی کی فی فرد ہسپتال میں کورونا وائرس سے اموات سب سے زیادہ ہیں اور گورے برطانوی اکثریت سے ان کی اموات کی تعداد تین گنا زیادہ ہیں، اس کے علاوہ کچھ اقلیتی گروہوں جن میں پاکستانی اور فام سیاہ افریقی شامل ہیں، آبادی کی اوسط سے فی فرد ہسپتال میں ہلاکتوں کی تعداد اتنی ہی دیکھی گئی ہے، جبکہ بنگلہ دیشی اموات کم رہیں۔مزید کہا گیا کہ جب عمر اور جغرافیے کو مدنظر رکھا جائے تو، زیادہ تر اقلیتی گروہوں کو گورے برطانوی اکثریت کے مقابلے میں فی فرد کم اموات ہونا چاہیے تھی۔بیشتر اقلیتیں مجموعی طور پر آبادی سے اوسطا کم عمر بھی ہیں جو انہیں کم خطرناک بناتا ہے تاہم پھر بھی تصدیق شدہ کیسز اور اموات ایک الگ کہانی بتاتی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ سیاہ فام افریقیوں اور پاکستانیوں کی فی فرد ہلاکتوں کی تعداد گورے برطانویوں کے مقابلے میں کم ہونے کی امید کی جانی چاہیے تھی تاہم فی الحال وہ موازنہ کے قابل ہیں۔اس سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ گھریلو اندر آمدنی کو بڑھاوا دینے کے امکانات شراکت داروں کے روزگار کی شرحوں پر منحصر ہوتے ہیں ، جو پاکستانی اور بنگلہ دیشی خواتین کے لئے بہت کم ہیں۔رپورٹ میں ان حیرت انگیز نتائج کو ایک گراف میں دکھایا گیا ہے جس میں بتایا گیا جس میں کہ برطانیہ میں 12 لاکھ پاکستانی آبادی کے مقابلے میں 4 کروڑ 23 لاکھ آبادی والے گورے برطانوی لوگوں کی ہسپتال میں اموات کافی کم ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…