جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا ء کی رہائی کا اعلان ریلیف کیوں دیا؟حکومت نے وجہ بتا دی

datetime 26  مارچ‬‮  2020 |

ڈھاکہ(این این آئی )بنگلہ دیش کی حکومت نے سابق وزیر اعظم اور اپوزیشن رہنما خالدہ ضیاء کو مسلسل گرتی ہوئی صحت کے مدنظرجیل سے رہا کرنے اوران کا علاج کرانے کا اعلان کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بنگلہ دیش حکومت کے ایک ترجمان نے بتایاکہ حزب اختلاف کی رہنما خالدہ ضیاء کو انسانی بنیادوں پر چھ ماہ کے لیے رہا کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی مسلسل گرتی ہوئی صحت کا علاج کرا سکیں، تاہم رہائی کا نوٹیفیکیشن ابھی جاری نہیں کیا گیا ۔

چوہترسالہ خالدہ ضیا بنگلہ دیش کی دو مرتبہ وزیر اعظم رہ چکی ہیں اور سن 2018 سے جیل میں قید ہیں۔ انہیں بدعنوانی کے بعض کیسز کے سلسلے میں سترہ برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ لیکن ان کی سیاسی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کا کہنا تھا کہ خالدہ ضیاء کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات سیاسی محرکات کے سبب بنائے گئے تھے۔ ان دنوں وہ جوڑوں کے درد کی بیماری میں مبتلا ہیں اور کچھ دنوں سے ان کی حالت کافی خراب ہے۔بنگلہ دیش کے وزیر قانون انصاف انیس الحق نے خالدہ ضیاء کی رہائی کے حوالے سے بتایا کہ سابق وزیر اعظم کو وزیر اعظم شیخ حسینہ کی ہدایت پر رہا کیا جارہا ہے لیکن ان کی رہائی اس کے شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ وہ ڈھاکہ میں اپنی رہائش گاہ پر ہی مقیم رہیں گی اور انہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ وہ اپنا علاج ملک کے کسی بھی ہسپتال میں کروا سکتی ہیں لیکن رہائی کی اس مدت کے دوران انہیں بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت ہرگز نہیں ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…