جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

حاملہ ترک خاتون اور انکے شوہر بھارت میں اجتمائی زیادتی کی کوشش سے بال بال بچ گئے، مگر ابھی تک حادثے کے صدمے کا شکار، جانئے

datetime 24  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں اجتماعی زیادتی کرنے والے گروہ کے حملے سے بمشکل بچنے والا ایک غیر ملکی جوڑا شدید ذہنی صدمے کا شکار ہو گیا۔ ترک خاتون دیگو کیسکن اور ان کے جرمن شوہر ٹمی ہیٹن دو سال سے مختلف ممالک کا سفر کر رہے ہیں۔ حال ہی میں وہ بھارت آئے۔ کیسکن نے بتایا کہ چار افراد کا گروہ گھر کی کھڑکیاں توڑ کر کمرے کے اندر داخل ہوا اور انہوں نے میرے شوہر کو مار مار کر لہولہان کردیا، انہوں نے میرے شوہر کو شدید زخمی کیا اور مجھ سے زیادتی کرنے کی بھی کوشش کی، سماجی رابطے کی

ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے اس خوفناک تجربے کے بارے میں اپنی کیفیت شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم پر گینگ حملہ ہو گا، گزشتہ رات عصمت دری کا نشانہ بننے سے بچ گئے۔ ترک خاتون جو کہ حاملہ بھی ہیں انہوں نے بتایا کہ ایک ہندوستانی شخص سے میں نے خود کو بڑی مشکل سے اپنی عزت کو بچایا، غیر ملکی ترک خاتون اور ان کے شوہر نے بھارتی عدالت سے درخواست کی ہے کہ ملزمان کو فوری تلاش کرکے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…