بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

امریکہ خلیج بصرہ میں بد اعتمادی پیدا کر رہا ہے : ایران

datetime 23  اگست‬‮  2019 |

نیویارک( آن لائن )ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکہ خلیج بصرہ جیسی مصروف گزر گاہ میں انتشار پھیلارہا ہے جس سے تصادم کا خطرہ بڑھ رہا ہے لہذا اس کی اجازت ہر گز نہیں دی جا سکتیایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ خلیج بصرہ میں بداعتمادی کی فضا پیدا کر رہا ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ، جواد ظریف نے اوسلو میں اپنی ہم منصب آئینی ایرکسن سے ملاقات کی ۔ ملاقات کے بعد اخباری کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں ظریف نے کہا کہ امریکہ خلیج بصرہ جیسی مصروف گزر گاہ میں انتشار پھیلارہا ہے جس سے تصادم کا

خطرہ بڑھ رہا ہے لہذا اس کی اجازت ہر گز نہیں دی جا سکتی ۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں اگر جہاز رانی کے تحفظ کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے تو اسی طرح جبل طارق میں بھی اس کا نفاذ ہم ضروری سمجھتے ہیں۔ جواد ظریف نے مزید کہا کہ خلیج بصرہ میں فوجی قوتوں کی موجودگی خطے میں عدم استحکام پیدا کرے گی ۔ ناروے کی انسٹیٹیوٹ برائے بین الاقوامی تعلقات کے زیر اہتمام منعقدہ ایک سیمنار سے خطاب کے دوران جواد ظریف کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں سلامتی کی بحالی ایران کے بغیر ممکن نہیں ہے ،ہم جنگ کے حامی نہیں لیکن اگر مسلط کی گئی تو پھر جواب بھی بھرپور ہوگا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…