اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

جرمنی کو سالانہ لاکھوں تارکین وطن کی ضرورت ،بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کو بڑی خبر سنادی گئی

datetime 13  فروری‬‮  2019 |

برلن(این این آئی)ایک تازہ مطالعے کے نتائج سے یہ پتہ چلا ہے کہ روزگار کی منڈی میں ملازمتیں پر کرنے کے لیے جرمنی میں آئندہ کئی برسوں کے لیے سالانہ بنیادوں پر 260,000 تارکین وطن کی ضرورت ہو گی۔جرمن معیشت کو درکار افرادی قوت یورپی یونین کے رکن ممالک سے جرمنی پہنچنے والے تارکین وطن سے پوری نہیں ہو گی۔ جرمن اقتصادیات کو مجموعی طور پر سالانہ 260,000 تارکین وطن درکار ہیں،

جن میں سے یورپی یونین کے رکن ممالک سے ہونے والی ہجرت کے علاوہ بلاک کے باہر کے ملکوں سے بھی سالانہ 146,000 تارکین وطن درکار ہوں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ انکشاف ،کے ایک تازہ مطالعے میں کیا گیا ،جرمنی کو ایجنگ پاپولیشن کے مسئلے کا سامنا ہے یعنی یہاں لوگوں کی اوسط عمر زیادہ ہے اور نتیجتا کم عمر افراد کی تعداد کم ہے۔ اگر امیگریشن کے ذریعے مطلوبہ اہداف تک نہ پہنچا گیا یا تارکین وطن کی آمد نہ ہو سکی، تو سن 2060 تک جرمنی میں ملازمت کرنے کے اہل افراد کی تعداد موجودہ تعداد کے مقابلے میں ایک تہائی تک گھٹ کر صرف سولہ ملین رہ جائے گی۔ اس کے دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت کے حامل اس ملک پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔بیرٹلسمین فانڈیشن کے جائزے کے مطابق ایسی کسی ممکنہ صورتحال سے بچنے کے لیے سن 2060 تک سالانہ بنیادوں پر کل 260,000 تارکین وطن درکار ہوں گے۔ توقع ہے کہ سالانہ 114,000 تارکین وطن یورپی یونین کے باہر کے ملکوں سے آئیں گے جبکہ چند داخلی وجوہات کی بنا پر یورپی بلاک کے رکن ممالک سے آنے والے تارکین وطن کے لیے جرمنی میں کشش کم ہو جائے گی۔بیرٹلسمین فانڈیشن کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر یورگ ڈریگر نے بتایا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سن 2017 میں ملازمت کی غرض سے آنے والے صرف اڑتیس ہزار تارکین وطن نے مستقل بنیادوں پر جرمنی میں رہائش اختیار کی۔ اس معالعے میں جرمن حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ امیگریشن کے قوانین میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں تاکہ اعلی اور درمیانے درجے کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے حامل افراد کے لیے دروازے کھل سکیں۔ اس اسٹڈی میں انضمام سے متعلق پروگراموں کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…