جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

عالمی عدالت کا روہنگیاؤں پرمظالم کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کااعلان

datetime 8  ستمبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

دی ہیگ(انٹرنیشنل ڈیسک)بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے کہا ہے کہ انہیں روہنگیا مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی اور میانمار فوج کی جانب سے انسانیت کے خلاف کیے گئے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے کا اختیار حاصل ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس بین الاقوامی ادارے کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں واضح کیا گیا کہ اس ادارے کو یہ اختیار حاصل ہے۔

وہ ایسے الزامات کی تحقیقات کر سکے کہ میانمار کی فوج نے روہنگیا مسلمانوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔آئی سی سی کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ عدالت کو انسانیت کے خلاف جرائم اور روہنگیا کمیونٹی کی ملک سے بے دخلی کی تحقیقات کرنے کا اختیار حاصل ہے۔جاری ہونے والے بیان کے مطابق عدالت کو یہ اختیار اس وجہ سے بھی حاصل ہے کیوں کہ روہنگیا مہاجرین ایک سرحد عبور کر کے دوسرے ملک پہنچے ہیں۔ اس فیصلے سے امکان پیدا ہوا ہے کہ عدالتی تفتیش کار روہنگیا مہاجرین کے خلاف ہونے والے ممکنہ جرائم کی تفتیش اور اْس کے نتیجے میں ذمے دار افراد کو عدالتی کٹہرے میں کھڑا کر سکتے ہیں۔ عدالت نے استغاثہ کو یہ بھی کہا کہ وہ اس اختیار کو مد نظر رکھتے ہوئے تفتیش کا سلسلہ جاری رکھیں۔پراسیکیوٹر فاتاؤ بینساؤدا ممکنہ جنگی جرائم کے حوالے سے ابتدائی شواہد اکٹھے کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور مناسب شواہد ملنے کے بعد جامع تحقیقات کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق میانمار فورسز کی جانب سے روہنگیا کمیونٹی کو دھمکانے اور خوفزدہ کرنے کے لیے ریپ اور جنسی تشدد جیسی کارروائیاں باقاعدہ اسٹریٹیجی کا حصہ تھیں۔میانمار کی راکھین ریاست میں پولیس چوکیوں پر حملوں کے بعد حکومتی فورسز نے روہنگیا اقلیت کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا تھا۔ روہنگیا اقلیت کو دنیا کی سب سے زیادہ ظلم و تشدد کی شکار اقلیت قرار دیا جاتا ہے اور ان کو نہ تو میانمار اور نہ ہی بنگلہ دیش شہریت دینے پر تیار ہے،آئی سی سی کی طرف سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سب سے اعلیٰ ادارے نے کہا ہے کہ میانمار کی فوجی قیادت کے خلاف نسل کْشی کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔واضح رہے کہ میانمار کی فوج کی جانب سے پرتشدد کریک ڈاؤن کے بعد ایک برس کے عرصے میں تقریبا? سات لاکھ روہنگیا مسلمان راکھین ریاست سے اپنی جانیں بچاتے ہوئے بنگلہ دیش فرار ہونے پر مجبور ہو گئے تھے۔ یہ مسئلہ ایک بین الاقوامی مسئلے کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اسی تناظر میں اب انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے اپنا ایک فیصلہ سنایا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…