ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

افغان مسئلے کا پر امن تصفیہ یا طویل خونریز جنگ طالبان نے امریکہ کو بڑا سرپرائز دیدیا، اشرف غنی نے بھی پاکستانی موقف تسلیم کرتے ہوئے بڑا اعلان کر دیا

datetime 28  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ماضی کو بھلا کر پاکستان سے مذاکرات کے خواہش مند ہیں، افغان صدر اشرف غنی کا افغانستان کے دارالحکومت میں ’’کابل کانفرنس‘‘سے خطاب، طالبان کو مذاکرات اور کابل میں دفتر کھولنے کی پیش کش کر دی۔ تفصیلات کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت میں ’’کابل کانفرنس‘‘کا آغاز ہو چکا ہے اور کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے

پاکستان اور طالبان کو مخاطب کرتے ہوئے مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ افغان صدر کا کہنا تھا کہ ماضی کو بھلا کر پاکستان سے مذاکرات کے خواہش مند ہیں اور نئے باب کا آغٓاز کرنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر افغان صدر نے طالبان کو مذاکرات اور کابل میں دفتر کھولنے کی بھی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ طالبان خطے میں امن کیلئے مذاکرات میں شریک ہوں اور ہتھیار ڈال کر حکومت کے ساتھ مل کر افغانستان کو بچائیں۔ کابل حکومت کے ساتھ تعاون کرنے والے طالبان اور ان کے اہلخانہ کو پاسپورٹ اور ویزا فراہمی کا عمل شروع کر دیا جائے گا، مذاکرات میں پیش رفت کی خاطر پرامن طالبان کیلئے کابل میں خصوصی دفتر بھی کھولا جائے گا جب کہ طالبان رہنمائوں پر عائد پابندیاں بھی اٹھا لی جائیں گی، امن اب طالبان کے ہاتھوں میں ہے۔ دوسری جانب افغان طالبان نے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کردیاہے ۔افغان طالبان کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر میں افغانستان کے اسلامی امارات کا پولیٹیکل آفس افغان بحران کے پر امن حل کے لیے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ امریکا کی جانب سے حالیہ جاری بیان یہ واضح کرتا ہے کہ امریکا اس حقیقت کا ادراک کر رہا ہے کہ افغان مسئلے کا عسکری حل نہیں ہو سکتا اور افغانستان میں گزشتہ17 سال سے آزمائی جانے والی فوجی حکمت عملیاں صرف اور صرف طویل جنگ

میں ہی شدت پیدا کریں گی جو کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے ۔ طالبان نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ افغانستان کی لڑائی ختم کرنے کیلیے مذاکرات کا آغاز کیاجائے۔ہم مکالمے کی راہ تلاش کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ امریکی حکومت کے نام پیغام میں طالبان نے کہا کہ اگر امریکا افغان عوام کے جائزمطالبات تسلیم کرتا ہے اور کسی پرامن طریقے سے بات چیت کرے تواس سے تصفیہ تلاش کرنے

میں مدد ملے گی۔ طالبان حکام کا کہنا ہے کہ وہ معاملے کا پرامن تصفیہ چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…