پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

ملاوی میں ڈریکولا ہونے کے شبے پر کئی افراد قتل،140 افراد گرفتار

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

ماسکو(آئی این پی) جنوب مشرقی افریقہ کے ملک ملاوی میں ڈریکولا ہونے کے شبے پر کئی افراد کو قتل کردیا گیا ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ملاوی میں اس وقت ویمپائر اور ڈریکولا کی افواہیں اور خوف اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ لوگ ہیجان کے شکار ہوکر عام بے گناہ افراد کو ڈریکولا کے شبے میں قتل کررہے ہیں۔جنوب

مشرقی افریقی ملاوی کے گلی محلوں میں اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کے گروہ بن گئے ہیں تاکہ وہ کسی مشتبہ شخص سے اپنے پیاروں کو بچاسکیں لیکن اس جنون میں ستمبر سے اب تک 9 افراد ڈریکولا کے الزام میں بے دردی سے قتل کئے جاچکے ہیں۔ملاوی کے دوسرے بڑے شہر بلینٹائر میں اب تک 2 افراد کو پتھروں سے کچل کر اور زندہ جلاکر مارا گیا ہے جب کہ 140 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جن پر خود ساختہ طور پر ڈریکولا کے شکاری کا الزام تھا اور وہ جگہ جگہ خون پینے والے فرضی افراد کو ڈھونڈ رہے تھے۔بعض ذرائع کے مطابق پہلے پڑوسی ملک موزمبیق میں ڈریکولا کی افواہوں نے زور پکڑا جہاں اس سے قبل بھی نام نہاد ڈریکولا کی سچی جھوٹی خبروں پر فسادات ہوئے تھے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق موزمبیق اور ملاوی سرحد کے پاس مولانجے اور فالومبے نامی دو ضلعوں میں ان کہانیوں نے جنم لیا ہے۔یہ نام نہاد ویمپائر شکاریوں نے ڈاکٹروں اور صحت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنانا شروع کیا یعنی وہ ڈاکٹروں کی اسٹیتھوسکوپ کو غلطی سے خون چوسنے کا کوئی آلہ سمجھ کر ان پر حملے کرتے رہے۔ اس کے علاوہ کئی ڈاکٹروں کو لوٹا گیا اور ان کی املاک و گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ یہاں تک کہ ایمبولینس کو بھی نہیں بخشا گیا ۔ ملاوی میں ڈاکٹروں کی تنظیم کے مطابق اب یہ پاگل پن پوری قوم میں کسی جنون کی طرح پھیل چکا

ہے۔ملاوی میں ڈاکٹروں کی تنظیم کے صدر آموس سیلمنڈا نیاکا کہتے ہیں کہ پہلے اکا دکا واقعات ہوئے اور اس کے بعد افواہوں کا بازار گرم ہوگیا ۔ یہاں تک کہ ہر شخص ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھنے لگا اور اب یہ قومی المیہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈریکولا اور خون چوسنے والے انسانوں کا کوئی وجود نہیں یہ محض افواہ اور خیالی باتیں ہیں۔پولیس کے مطابق متاثرہ علاقوں میں گشت بڑھادی گئی ہے جب کہ عام افراد کو

ویمپائر قرار دے کر قتل کرنے یا حملہ کرنے والوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے گا۔دوسری جانب ملاوی کے صدر پیٹر موتھاریکا بھی اس سے صورتحال سے پریشان ہیں اور اسے حکومت کے لیے لمحہ فکریہ قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق یہ توہمات، فرضی کہانیاں اور معاشرتی عقائد ان پڑھ اور غریب علاقوں میں ذیادہ پائے جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…