جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

بدھوں کے روحانی پیشوا ’’دلائی لامہ‘‘ اپنے ہی لوگوں اور برما حکومت پر برس پڑے، کیا کچھ کہہ دیا؟

datetime 12  ستمبر‬‮  2017 |

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)تبتی رہنما اور بدھ بھکشوئوں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے روہنگیا بحران پر پہلی دفعہ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس وقت مہاتما بدھ ہوتے، تو وہ روہنگیا مسلمانوں کی مدد کر رہے ہوتے، معصوم روہنگیا مسلمانوں کی مدد کرنی چاہئے، انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر زید بن رعد الحسین نے کہا ہے کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کو سکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن میں نشانہ

بنایا جانا ان کی نسل کشی کی واضح مثال ہے، میانمار حکومت راکھائن میں جاری ظالمانہ ملٹری آپریشن ختم کرے، سکیورٹی فورسز اور لوکل ملیشیا کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ روہنگیا کے گاؤں کو آگ لگا رہے ہیں، ماورائے عدالت قتل کے مسلسل واقعات دیکھنے میں آئے اور ان میں بھاگتے ہوئے شہریوں کو گولی مارا جانا بھی شامل ہے، انہوں نے بھارت سے روہنگیا مسلمانوں کی ملک بدری کے اقدامات کی بھی مذمت کی ۔تفصیلات کے مطابق بدھ بھکشوئوں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے کہا کہ تشدد کی وجہ سے فرار ہونے والے معصوم مسلمان روہنگیا کی مدد کی جانا چاہیے کیوں کہ بدھ مت کی تعلیم یہی ہے۔دلائی لامہ نے جمعے کے روز صحافیوں سے بات چیت میں کہا، ’’وہ لوگ جو مسلمانوں کو دھمکا رہیں ہیں، انہیں بدھا کے بارے میں سوچنا چاہیے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’ایسی حالت میں بدھا نے یقیناً ان غریب مسلمانوں کی مدد کی ہوتی۔میں اس بابت بے انتہا دکھ محسوس کر رہا ہوں۔‘‘یہ بات اہم ہے کہ میانمار کی اکثریت بدھ مت کے ماننے والوں کی ہے، جب کہ وہاں روہنگیا مسلمانوں کی بابت شدید نفرت پائی جاتی ہے۔ روہنگیا کو میانمار میں ’غیرقانونی تارکین وطن بنگالی‘ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔نوبل امن انعام یافتگان کی جانب سے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر جاری تشدد کی مذمت کرنے والوں میں دلائی لامہ ایک اضافہ ہیں۔ اس سے قبل ملالہ یوسف زئی، ڈیسمنڈ ٹوٹو

اور شیریں عبادی اس تشدد کی کڑی مذمت کر چکے ہیں۔نوبل امن انعام یافتہ آرچ بشپ توتو نے اپنے ایک حالیہ بیان میں سوچی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا، ’’اگر اس تشدد کو روکنے کے لیے آواز اٹھانے کی راہ میں آپ کا سیاسی عہدہ آڑے آ رہا ہے، تو آپ اس عہدے کے لیے بہت بھاری قیمت ادا کر رہی ہیں۔‘‘دوسری جانب انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر زید بن رعد الحسین نے کہا ہے کہ میانمار میں روہنگیا

مسلمانوں کو سکیورٹی آپریشن میں نشانہ بنایا جانا ان کی نسل کشی کی ’واضح مثال ہے۔ جینیوا میں حقوق انسانی کمیشن کونسل میں روہنگیا کے بحران پر خطاب کرتے ہوئے زید راض الحسین نے میانمار کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ریاست راکھائن میں جاری ’ظالمانہ ملٹری آپریشن‘ کو ختم کرے۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر زید راض الحسین نے کہا کہ حالیہ آپریشن ’واضح طور پر غیر متناسب‘ ہے۔انھوں نے کہا کہ اس صورتحال کو

پوری طرح دیکھا نہیں جا سکا کیونکہ میانمار نے انسانی حقوق کا جائزہ لینے والوں کو وہاں تک رسائی دینے سے انکار کیا ہے۔تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے مختلف رپورٹس، سیٹلائیٹ سے لی گئی سکیورٹی فورسز اور لوکل ملیشیا کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ روہنگیا کے گاؤں کو آگ لگا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…