جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

’’ پاکستان نہیں امریکہ پاکستان کا محتاج ہے‘‘ سابق سی آئی اے سر براہ کی امریکہ کو وارننگ

datetime 29  اگست‬‮  2017 |

نیو یارک(این این آئی) امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ مائیکل موریل نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی امداد بند یا کم کر کے اس پر دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا کیونکہ امریکہ کا پاکستان پر ناجائز دباؤ کا حربہ کارگر نہیں ہو گا البتہ اس دباؤ سے امریکہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے پاکستان کو نہیں کیونکہ پاکستان امریکی امداد سے آزاد ہو چکا ہے۔ چین جیسے دوست کی امداد اسے حاصل ہے اور امریکہ پاکستان کی فضائی اور زمینی راستوں کا

محتاج ہے جس کے تعاون کے بغیر یہ جنگ امریکہ جیت نہیں سکتا۔سی آئی اے کے سابق قائم مقام سربراہ مائیکل موریل نے ایک حالیہ انٹرویو میں صدر ٹرمپ کی تقریر پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ہم کس قدر پالیسی میں تبدیلی پر آمادہ کر سکتے ہیں کہ وہ طالبان کی حمایت سے کنارہ کش ہو جائے تاہم ایران اور روس کی امداد سے طالبان میں ایک نئی قوت پیدا ہو چکی ہے ان میں نظریاتی عنصر ایسا ہے جسے شکست دینا ناممکن ہے وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی واضح نہیں ہے نہ ہی انہوں نے کوئی پلان دیا ہے کہ کتنی فوج بھیجی جائیگی اور اس کا رول کیا ہو گا جبکہ انہوں نے افغان حکومت کے کردار کی بھی وضاحت نہیں کی۔انہوں نے افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے لئے اس سے آسانیاں پیدا ہوں گی تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکی افواج کی زمین پر موجودگی میں اضافہ ہوتا ہے تو طالبان کی کارروائیوں سے امریکی فوجیوں کے تابوت پہنچنے پر امریکہ میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ مائیکل موریل نے مزید کہا کہ طالبان کے اثر و رسوخ کو روکنے کیلئے افغان حکومت کی کرپشن کے خاتمے اور افغان فوج کی کارکردگی بہتر بنانا ہو گی۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اگر ہارے نہ بھی تو جنگ جیت نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی جنگ نظریاتی ہے۔ ایران اور

روس کی پالیسیوں کا جائزہ لینا ضروری ہے جبکہ پاکستان کو آمادہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ طالبان کی حمایت سے دست کش ہو جائے کیونکہ پاکستان پر دباؤ¶ کارگر نہیں ہو گا وہ امریکی امداد سے آزاد ہو چکا ہے۔ چین اسکی ہر قسم کی مدد کر رہا ہے اور ماضی میں بھی امریکہ امداد بند کر کے دیکھ چکا ہے لہٰذا طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اس کا سیاسی حل تلاش کرنا ہو گا۔انہوں نے افغانستان میں نیٹو اور امریکی افواج کے کمانڈر

جنرل نکلسن کے انٹرویو کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے بھی افغان مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیا ہے۔ کمانڈر کا بھی خیال ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ہی مسئلہ حل ہو گا اور طالبان کو بھی یہ احساس ہے کہ وہ جنگ جیت نہیں سکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…