جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کی پہلی افطاری کہاں روزہ کھولا؟ سب کے دل جیت لئے !!

datetime 25  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) فیس بک کے بانی مارک زکر برگ نے آبادی کے لحاظ سے امریکا کی 46 ویں بڑی ریاست مینی سوٹا کے شہر میناپولس میں زندگی میں پہلی بار مسلمان پناہ گزین خاندان کے ساتھ افطار ڈنر کیا۔مارک زکر برگ نے صومالیہ کے ایک ایسے پناہ گزین خاندان کے ساتھ افطار ڈنر کیا، جو گزشتہ 26 برس سے ایک ریلیف کیمپ میں زندگی گزار رہا ہے۔مارک زکر برگ 23 جون کو صومالی پناہ گزین خاندان کے ساتھ افطار ڈنر کرنے پہنچے،

جس کی بعد انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر افطار ڈنر کی تصویر بھی شیئر کی۔فیس بک بانی کی اس تصویر کو ہزاروں افراد نے لائیک کیا، اور اس پر کمنٹس کرنے سمیت اسے شیئر بھی کیا۔اپنی پوسٹ میں مارک زکر برگ نے پناہ گزین خاندان کی جانب سے مہمان نوازی کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ’ انہیں پناہ گزینوں کی طاقت اور ہمت نے ایک انجان جگہ میں نئی زندگی کی شروعات کرنے کے لیے متاثر کیا۔فیس بک بانی نے پناہ گزین خاندان کا درد محسسوس کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے 26 سال ریلیف کیمپ میں گزارنے والے ایک شخص سے پوچھا کہ ’ایک پناہ گزیں کے پاس اس بات کی کوئی پسند نہیں ہوتی یا اسے یہ پتہ نہیں ہوتا کہ اب اس کا اگلا ٹھکانہ کون سا ہوگا۔جس پراس شخص نے بڑا سادہ جواب دیا کہ اب وہ امریکا کو ہی اپنا گھر سمجھتے ہیں۔مارک زکر برگ نے پوسٹ میں لکھا کہ ’ اس مہاجر نے مزید کہا کہ گھر وہ ہوتا ہے، جہاں آدمی اپنی آزادی اور پسند سے جو چاہے کرے، اور وہ یہاں بھی وہی محسوس کرتے ہیں۔ساتھ ہی مارک زکر برگ نے یہ بھی لکھا کہ دنیا میں کچھ ایسی جگہیں ہوتی ہیں، جہاں انسان خود کو مطمئن اور پرسکون محسوس کرتا ہے، اس میں سے ایک وہ جگہ ہے، جس ملک میں اانسان کی پیدائش ہوتی ہے، اور دوسرا ہمارہ ملک (امریکا) جہاں ہر شخص کو آزادی محسوس ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…