جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

برطانوی انتخابات، حکمران جماعت اکثریت سے محروم،مخلوط حکومت کا امکان

datetime 9  جون‬‮  2017 |

لندن(این این آئی)برطانیہ میں ہونے والے عام انتخابات میں حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی توقعات کے برعکس پارلیمان میں اپنی سادہ اکثریت برقرار رکھنے میں ناکام ہوگئی ہے۔برطانوی ٹی وی کے مطابق جمعرات کو ہونے والی پولنگ کے نتائج کے مطابق کوئی جماعت بھی 650 رکنی پارلیمان میں سادہ اکثریت حاصل نہیں کرسکی ہے جس کا مطلب ہے کہ ملک میں مخلوط حکومت تشکیل پائے گی۔ابتدائی نتائج کے مطابق وزیرِاعظم تھریسا
مے کی جماعت پارلیمان میں سادہ اکثریت کے لیے درکار 326 نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے جس کے بعد وزیرِاعظم کے مستقبل پر سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔وزیرِاعظم مینے رواں سال اپریل میں قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرکے جو جوا کھیلا تھا وہ بظاہر ان کے گلے پڑگیا ہے۔وزیرِاعظم مے نے قبل از وقت انتخابات کا اعلان یہ کہہ کر کیا تھا کہ انہیں برطانیہ کے انخلا کے لیے یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کے لیے نیا اور مضبوط مینڈیٹ درکار ہے جس کے لیے نئے انتخابات ضروری ہیں۔جس وقت وزیرِاعظم مے نے عام انتخابات کا اعلان کیا تھا اس وقت ان کی جماعت مقبولیت میں حزبِ مخالف کی لیبر پارٹی سے 20 فی صد آگے تھی اور وزیرِاعظم اور ان کے مشیروں کو امید تھی کہ وہ انتخابات کے نتیجے میں پارلیمان میں اپنی اکثریت میں اضافہ کرلیں گے۔تاہم جیسے جیسے انتخابات قریب آتے گئے کنزرویٹوز کی مقبولیت میں کمی اور لیبر کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا گیا۔اب تک پارلیمان کی 650 میں سے 644 نشستوں کے نتائج سامنے آچکے ہیں جس کے مطابق حکمران جماعت کنزرویٹو 313 نشستوں کے ساتھ پارلیمان کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ لیکن وہ 326 نشستوں کی سادہ اکثریت حاصل نہیں کرسکی ہے۔کنزرویٹو پارٹی کے پاس پچھلی پارلیمان میں 330 نشستیں تھیں۔ عام انتخابات میں موجودہ حکومت کے سات وزرا اپنی نشستیں ہار گئے ہیں۔لیبر پارٹی کو پچھلی پارلیمان کے مقابلے میں مزید 31 نشستیں حاصل ہوئی ہیںاور وہ 260 نشستوں کے ساتھ پارلیمان کی دوسری بڑی جماعت ہے۔انتخابات میں دوسرا بڑا دھچکا اسکاٹ لینڈ کی حکمران جماعت اسکاٹش نیشنل پارٹی کو لگا ہے جو اپنی 19 نشستیں ہار گئی ہے۔ ایس این پی کے پاس گزشتہ پارلیمان میں 54 نشستیں تھیں لیکن نئی پارلیمان میں اسے صرف 35 نشستیں ملی ہیں۔کنزرویٹو پارٹی کی سابق اتحادی لبرل ڈیموکریٹس کو 12 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔حکام کے مطابق انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح لگ بھگ 68.6 فی صد رہی۔حکمران جماعت کی شکست کے بعد لیبر پارٹی کے رہنما جیرمی کوربن نے وزیرِاعظم تھریسا مے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔خراب نتائج پر کنزرویٹو پارٹی کے اندر بھی خاصی ناراضی ہے اور کئی رہنما وزیرِاعظم کی انتخابی حکمتِ عملی اور ان کے مشیروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…