جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

اقتصادی راہداری منصوبے میں شریک ممالک کے سا تھ مستقبل میں کیا ہوگا؟بھارت نے بڑا دعویٰ کردیا،دوٹوک اعلان

datetime 14  مئی‬‮  2017 |

نئی دہلی(آئی این پی) بھارت نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں جاری بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں شرکت سے گریز کیا اور اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ایسے منصوبے کا حصہ نہیں بنے گا جس سے اس کی خود مختاری کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔بھارتی حکومت نے بیجنگ میں جاری ایک خطہ ایک سڑک وژن سے متعلق منعقدہ بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں شرکت کے لیے اپنا حکومتی وفد نہیں بھیجا

تاہم اجلاس میں شرکت کئے لیے بھارتی تھنک ٹینک کا ایک وفد بیجنگ میں موجود ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے نے ‘ایک خطہ ایک سڑک منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے میں شامل ممالک پر قرضوں کا ناقابل برداشت بوجھ آجائے گا۔گوپال باگلے نے کہا ہے کہ بھارت کسی بھی ایسے منصوبے میں شرکت نہیں کرے گا جس میں اسے اپنی خود مختاری پر سمجھوتہ کرنا پڑے۔ایک بھارتی حکومتی اہلکار نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے حکومتی سطح کا کوئی وفد اس تقریب میں شرکت کے لیے بیجنگ نہیں گیا تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بھارتی تھنک ٹینک کے چند ماہرین فورم کے کچھ اجلاسوں میں شرکت کے لیے بیجنگ روانہ ہوئے ہیں۔بھارت ایک خطہ ایک سڑک منصوبے پر نالاں ہے کیوں کہ اس کا ایک اہم ترین منصوبہ چائنا پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) پاکستان اور کشمیر سے ہوکر گزرتا ہے۔اس سلسلے میں گوپال پاگلے کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ملک ایسا منصوبہ قبول نہیں کرے گا جو اس کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے بنیادی خدشات کو نظر انداز کرتا ہو۔ان کا کہنا تھا کہ علاقائی ربط سازی کے اقدامات میں مالی ذمہ داری کے اصولوں پر عمل کرنا ہوگا تا کہ ایسے منصوبوں سے بچا جا سکے جن میں قوموں پر بھاری قرض عائد ہو۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ بھی کہا ہے کہ بھارت عالمی ربط سازی پر یقین رکھتا ہے، ایسے منصوبے عالمی سطح پر تسلیم شدہ بین الاقوامی اصولوں، گڈ گورننس، قانون کی حکمرانی، شفافیت اور مساوات کی بنیاد پر بننے چاہئیں۔یار رہے کہ بھارت کی جانب سے ایک خطہ ایک سڑک پر تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی جب چین کے دارالحکومت بیجنگ میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم برائے بین الاقوامی تعاون کے عنوان سے تقریب جاری ہے جس میں پاکستان اور روس سمیت دنیا بھرکے 29 ممالک کے سربراہان اور نمائدگان موجود ہیں۔اس کانفرنس کا مقصد بین الاقوامی تعاون کے ذریعے مشترکہ ترقی کو فروغ دینا ہے،

خیال رہے کہ پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) بھی ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا اہم جزو ہے۔واضح رہے کہ بھارت میں تعینات چینی سفیر لو ژاہوئی نے بھارت کو چین کے ‘ون بیلٹ ون روڈ (ایک خطہ، ایک سڑک) منصوبے میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے نئی دہلی کو اس بات کی یقین دہائی کرائی تھی کہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے سے کسی کے خودمختار حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…