جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

2007ء تک کیا ہورہاتھا اور اب کیاہورہاہے؟،مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی فورسز اہلکار اورمیڈیاششدر ،ہوش اُڑ گئے

datetime 10  اپریل‬‮  2017 |

سرینگر (این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں بھارت سے خصو صی طور پر پولنگ بوتھوں کی حفاظت کے لیے لائے جانے والے بھارتی فوجی سرینگر ، بڈگام اور گاندربل میں نام نہاد ضمنی انتخابات کا عوامی بائیکاٹ دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق پولنگ بوتھس پر تعینات بھارتی فوجی ایک دوسرے سے بائیکاٹ کی وجوہات کے بارے میں سوالات کر رہے تھے۔ بھارتی پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس کا ایک

اہلکار نے سیڑھیوں پر بیٹھ کر یہی سوال مختلف انداز میں کیا کہ کشمیر کب سدھرے گا۔اس نے ایک صحافی سے کہا کہ ایک بار دفعہ 370 ہٹاؤ تو یہ لوگ لائن پر آئیں گے۔ سی آر پی ایف اہلکار کا کہنا تھا کہ وہ 2003 ء سے2007 ء تک تین سال وادی کشمیر میں تعینات تھااور ان دنوں فورسز پر صرف مجاہدین کے حملے ہوتے تھے لیکن اب صورتحال بالکل بدل گئی ہے۔ ان دنوں سنگبازی نہیں تھی ۔ ایک اور اہلکار نے کہا کہ جب ہم تلنگانا ریاست کا مطالبہ کررہے تھے تو وہاں بھی قتل و غارت ہورہی تھی ۔ اس نے ہنستے ہوئے کہاہم نے ڈٹ کے لڑا پھر ریاست کا درجہ ملا، کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔بیرواہ میں تعینات ایک اور فورسز اہلکار نے کہا کہ ہمیں نہیں پتہ کہ کشمیری ہمارے خلاف کیوں ہیں ۔ وہ بیرواہ گرلز ہائر سیکنڈری سکول میں پولنگ بوتھ کی حفاظت پر تعینات تھاجو مقامی نوجوانوں اور احتجاجی مظاہرین کی طرف سے پتھراؤ کے بعد خالی کرنا پڑا۔انڈو تبتین بارڈر فورس کے اہلکار نے جو بھارتی ریاست پنجاب سے آیا تھاکہا کہ اس طرح ہم پر کبھی پتھراؤ نہیں ہواہے۔ ہم جب سے یہاں آئے ہیں ، پتھراؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے،ہم پر صبح و شام پتھر مارے جارہے ہیں۔ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس کا کہنا تھا کہ سیاستدان مسئلہ کشمیر کو مناسب طریقے سے حل کرنے کی کوشش نہیں کررہے ہیں۔ ہم کچھ نہیں کرسکتے، ہم صرف اپنی ڈیوٹی کرتے ہیں۔ یہ سارا گند سیاستدانوں نے

پھیلایا ہے۔ آئی ٹی بی پی اہلکار نے کہا کہ اس نے ایک چھ سالہ بچے کو بسکٹ خرید کر لانے کے لیے کہا اور اس کو دس روپے بھی دیے۔ ایک گھنٹے بعد وہی بچہ مجھ پراور میرے ساتھیوں پر پتھراؤ کرنے میں سب سے آگے تھا۔ اس نے کہا کہ یہاں حالات بہت بدل چکے ہیں۔ ایک سی آرپی ایف اہلکارنے بنٹوں سے بھرا تھیلا اٹھا رکھا تھا اور غلیل سے مظاہرین پر بنٹے پھینک رہا تھا۔اس نے کہاکہ یہ بنٹے بچے کھیلنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور جب میں بچہ تھا میں بھی ان کے ساتھ کھیلتا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں ابھی بچہ ہی ہوں اورابھی بھی ان کے ساتھ کھیل رہا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…