جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مودی سمجھ لیں پتھرپھینکنے والے پتھر کیوں پھینکتے ہیں؟بھارت نواز کشمیری رہنما فاروق عبداللہ نے وجہ بتادی

datetime 5  اپریل‬‮  2017 |

سرینگر/نئی دہلی (آئی این پی)مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ مودی سمجھ لیں کہ پتھرپھینکنے والے کو سیاحت سے کوئی مطلب نہیں،کشمیری نوجوان جان دے رہا ہے تو سیاحت نہیں وطن کیلئے دے رہاہے،یہ سمجھناچاہیے کہ پتھرمارنیوالابھوکامرے گالیکن وطن کیلئے پتھرمارے گا،اگر پاکستان، بھارت مسائل حل نہیں کر سکتے تو امریکاکو ثالثی کرنی چاہیے،اس وطن کا فیصلہ ہونا چاہیے جو

کشمیریوں کو قبول ہو۔بھارتی میڈیا کے مطابق سابق وزیراعلی مقبوضہ کشمیر فاروق عبداللہ نے پارٹی ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے مودی کے کشمیری بچوں کو سیاحت یا دہشتگردی میں سے کوئی ایک منتخب کرنے بیان پر بھارتی وزیراعظم کو جواب دیتے ہوئے کہاکہ اگر پاکستان، بھارت مسائل حل نہیں کر سکتے تو امریکاکو ثالثی کرنی چاہیے،اس وطن کا فیصلہ ہونا چاہیے، جو کشمیریوں کو قبول ہو۔فاروق عبداللہ نے کہا کہ کشمیری نوجوان جان دے رہا ہے تو سیاحت کیلیے نہیں وطن کیلئے دے رہاہے،یہ سمجھناچاہیے پتھرمارنیوالابھوکامرے گالیکن وطن کیلئے پتھرمارے گا،مودی صاحب سمجھ لیں یہ سمجھناچاہیے پتھرمارنیوالابھوکامرے گالیکن وطن کیلئے پتھرمارے گا،مودی صاحب سمجھ لیں کہ پتھرپھینکنے والے کو سیاحت سے کوئی مطلب نہیں،مودی کوکہتاہوں کہ اس میں شک نہیں کہ سیاحت کشمیریوں کی زندگی ہے۔واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دورہ مقبوضہ کشمیر کے دوران کہا تھاکہ کشمیریوں نوجوانوں کو سیاحت یا دہشتگردی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔مودی کوکہتاہوں کہ اس میں شک نہیں کہ سیاحت کشمیریوں کی زندگی ہے۔واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دورہ مقبوضہ کشمیر کے دوران کہا تھاکہ کشمیریوں نوجوانوں کو سیاحت یا دہشتگردی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…