ہفتہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2026 

امریکی صدر اور پوپ سمیت دنیا کی اہم ترین شخصیات کوروسی صدر پیوٹن سے ملنے کیلئے کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے مگر

datetime 6  جنوری‬‮  2017 |

ماسکو(آن لائن )روسی صدر ولاد ی میر پیوٹن نے دنیا کے با اثر ترین افراد کوانتظا ر کی سولی پر لٹکا دیا جن میں امریکی صدر بارک اوبامہ ،پاپ فرانسس اور ملکہ برطانیہ بھی شامل ہیں۔البتہ ترک صدر رجب طیب اردوان ان لیڈروں میں شامل ہیں جنہوں نے ملاقات کے لیے ایک سے زائد مرتبہ صدر پیوٹن کو انتظار کروایا۔

جوڈو کراٹے کے بہترین کھلاڑی ، شکار کے شوقین اور جنگجو مزاج ولادی میر پیوٹن کو جدید دور کے زار کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔افغانستان سے پسپائی کے بعد روسی فیڈریشن ٹوٹنے اور وسط ایشیائی ریاستوں کے آزاد ہونے اورمشرقی یورپ کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد روس طویل عرصہ اقتصادی بد حالی سے دو چار رہا اور داخلی طور پر بھی شدید ابتری کی صورتحال تھی لیکن پیوٹن کے دور حکومت میں روس پھر طاقت ور ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔پیوٹن کی اس غیر معمولی کارکردگی کے باوجود وہ بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں لیٹ لطیف حکمران کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔نجی نیوز چینل جیو نیوز کے مطابق 2014میں جرمن چانسلر انجیلا مرکل کو پیوٹن سے ملاقات کے لیے چار گھنٹے اور پندرہ منٹ کا درد ناک انتظار کرنا پڑا۔اسی سال یوکرین کے صدر وکٹر یونکاوچ چار گھنٹے تک پیوٹن کی راہ تکتے رہے ،یوکرین ہی کر وزیر اعظم یوریاٹیموشن کو تین گھنٹے ،بیلا روس کے صدر الیگزنڈر روکاشن کو تین گھنٹے ،جاپان کے وزیراعظم شین ڑوئے کو تین گھنٹے ،منگلولیا کے صدر تشکیا جین کو دو گھنٹے ،اسرائیلی صدر شمعون پرے ڈیڑھ گھنٹے ،بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ایک گھنٹے ،پاپ فرانسس کو پچاس منٹ ،سوئیڈ ن کے حکمران کو چالیس منٹ ،امریکی صدر باراک اوبامہ کو چالیس منٹ ،جنوبی کوریا کی صدر کو آدھے گھنٹے ،سپین کے حکمران کو بیس منٹ اور برطانیہ کی ملکہ کوئین الزبتھ کو چالیس منٹ تک پیوٹن کا انتظار کرنا پڑا۔ماسکو میں پیوٹن کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم ملاقاتوں سے پہلے ہر چیز کو ڈبل چیک کرنا پیوٹن کی عادت ہے جو ان کے شیڈول متاثر کرتی ہے۔البتہ ترک صدر رجب طیب اردوان ان لیڈروں میں شامل ہیں جنہوں نے ملاقات کے لیے ایک سے زائد مرتبہ صدر پیوٹن کو انتظار کروایا۔

برطانوی اخبار’ ایکسپریس‘کے مطابق ترک صدر نے روسی ہم منصب کو اس وقت انتظار کروایا تھا جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے اور اس سلسلے میں دونوں حکمرانوں کی ملاقات ہوئی تھی ،ترک صدر کی جانب سے انتظار کرائے جانے پر ولادی میر پیوٹن نے ناراضگی کا اظہار بھی کیا تھا۔مذکورہ ملاقات ترکی کی جانب سے روس کا جنگی جہاز مار گرائے جانے کے بعد ہوئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…