اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

قطر مذاکرات سے پاکستان کو باہررکھنے کی کوشش ناکام ۔۔۔ اللہ نے مدد بھیج دی ۔۔۔ سب باتیں کھل کر سامنے آگئیں 

datetime 22  اکتوبر‬‮  2016 |

کابل/اسلام آباد(این این آئی) طالبان کی قطر میں افغان حکومت کے نمائندوں سے حالیہ بات چیت کے بعد طالبان کے ایک وفد نے پاکستانی حکام کو اس بارے میں بریفنگ دی ہے،میڈیارپورٹس کے مطابق ایک افغان سفارت کار اور ایک پاکستانی اہلکار کے علاوہ خود افغان طالبان کے ذرائع نے بتایاکہ طالبان کی قطر میں کابل حکومت کے نمائندوں سے حالیہ بات چیت کے بعد طالبان کے ایک وفد نے پاکستانی حکام کو اس بارے میں بریفنگ دی،حال ہی میں قطر میں ہونے والی اس بات چیت کے بعد افغان طالبان کے ایک وفد کے پاکستان کے اس مبینہ دورے کی خود طالبان کے ایک سینیئر عہدیدار اور ایک افغان سفارت کار کے علاوہ ایک اعلیٰ پاکستانی اہلکار نے بھی تصدیق کر دی ،پاکستان میں افغانستان کے سفیر حضرت عمر ذخیل وال نے بتایا کہ وہ افغان طالبان کی مزاحمتی تحریک کے تین سرکردہ ارکان کے حالیہ دورہ پاکستان اور اس دوران ان کی پاکستانی حکام کے ساتھ ملاقاتوں سے آگاہ ہیں تاہم ذخیل وال نے ان ملاقاتوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا،

اسی دوران افغان طالبان کے ایک سینیئر رہنما نے بھی بتایا کہ قطر میں طالبان کے ایک وفد نے کابل حکومت کے نمائندوں کے ساتھ حال ہی میں مذاکرات کیے، جن کے بعد طالبان کی طرف سے ان مذاکرات سے متعلق پاکستانی حکام کو بریفنگ دینے کے لیے طالبان کے جس وفد نے پاکستان کا دورہ کیا، اس میں تین شخصیات شامل تھیں۔طالبان کے اس رہنما کے بقول پاکستان جانے والے اس وفد میں ملا سلام حنیفی اور ملا جان محمد کے علاوہ، جو دونوں طالبان دور حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں، مولوی شہاب الدین دلاور بھی شامل تھے، جو کابل میں طالبان حکومت کے دور میں سعودی عرب اور پاکستان میں افغان سفیر کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔اس کے علاوہ پاکستانی سکیورٹی اداروں میں سے ایک کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بھی تصدیق کی کہ پاکستانی حکام اور افغان طالبان کے مابین حال ہی میں ملاقاتیں ہوئی ہیں اور پاکستان اس سلسلے میں ہمسایہ ملک افغانستان میں قیام امن کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔اس پاکستانی سکیورٹی اہلکار نے، جسے افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کے حوالے سے میڈیا کو کچھ بھی بتانے کا اختیار نہیں ہے، اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاکہ جیسا کہ ہم نے 2015ء میں بھی کیا تھا، ہم کابل حکومت اور افغان طالبان کے مابین مذاکرات کو ممکن بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ دنیا جانتی ہے کہ پچھلی مرتبہ افغانستان میں امن عمل کو کس نے نقصان پہنچایا تھا۔ اب ہم یہ سب تلخ باتیں دوہرانا نہیں چاہتے لیکن قیام امن کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔قطر میں کابل حکومت اور افغان طالبان کے مابین حالیہ مذاکرات کی چند حلقوں نے اب تک اگر تصدیق کی ہے تو چند حلقے ان کی تردید بھی کر چکے ہیں۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ اب طالبان کے ایک سینیئر رہنما، افغان حکومت کے ایک سفیر اور ایک پاکستانی سکیورٹی اہلکار، تینوں نے تقریبابیک وقت قطر میں اس مکالمت کی تصدیق کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…