منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

سمندر سے زمین واپس حاصل کرنے کا منصوبہ

datetime 11  ستمبر‬‮  2015 |

ڈھاکہ (نیوزڈیسک)بنگلہ دیش نے سمندر سے زمین واپس حاصل کر کے اس پر ان لوگوں کو بسانے کا منصوبہ بنایا ہے جو شدید موسم اور آبی سطح میں اضافے کے باعث پانی کی نذر ہونے والی زمین کے نتیجے میں بے گھر ہو گئے تھے۔بنگلہ دیش میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پیش آنے والی قدرتی آفات عام ہیں۔ مثال کے طور پر سمندری طوفان اور سیلابوں کے سبب ہر سال بڑی تعداد میں لوگوں کو گھر بار چھوڑنا پڑتا ہے۔ تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن نے بنگلہ دیش کے آبی وسائل کے وزیر انیس الاسلام کے حوالے سے لکھا ہے کہ دریاؤں کے باعث ہر سال 20 ہزار ایکڑ زمین پانی کی نذر ہو جاتی ہے۔
2013ء میں کرائے گئے ایک مطالعے کے مطابق بنگلہ دیش میں ایسی ہی قدرتی وجوہات کے سبب ہر سال قریب دو لاکھ افراد بے گھر ہو جاتے ہیں۔ تاہم اب بنگلہ دیش ایسی کچھ زمین واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ منصوبے کے مطابق ملکی دریاؤں کی مدد سے نئی زمین حاصل کی جائے گی اور اس زمین پر بے گھر ہونے والے لوگوں کو بسایا جائے گا۔
جون 2015ء میں بنگلہ دیش نے ہالینڈ کی حکومت کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس کے مطابق یہ یورپی ملک سمندر سے زمین کے حصول کی کوششوں میں تعاون فراہم کرے گا۔ بنگلہ دیش کے تین بڑے دریا پدما، براہم پتر اور میگھنا اپنے پانی کے ساتھ مٹی کی ایک بڑی مقدار بھی سمندر میں لے جاتے ہیں۔ اس مقدار کا اندازہ ایک بلین ٹن سالانہ لگایا گیا ہے جو خلیج بنگال کے شمالی ساحلی حصے تک پہنچتی ہے۔
بنگلہ دیش میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پیش آنے والی قدرتی آفات عام ہیں
07
بنگلہ دیش میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پیش آنے والی قدرتی آفات عام ہیں
ڈھاکا میں قائم سنٹر فار انوائرمنٹل اینڈ جیوگرافک انفارمیشن سروسز (CEGIS) کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ملک خان کے مطابق اگر دریاؤں کے ساتھ آنے والی اس مٹی کا رُخ نوآکھلی Noakhali کے نشیبی ساحلی علاقوں کی طرف پھیر دیا جائے تو سمندر سے نئی زمین نمودار ہو جائے گی۔ خان کہتے ہیں، ’’دریاؤں کے ذریعے آنے والی مٹی کو مخصوص جگہ تک منتقل کر کے زمین حاصل کرنے کے امکانات موجود ہیں۔‘‘
اس مقصد کے لیے ان دریاؤں کے راستے میں ڈیم تعمیر کیے جائیں گے جو پانی کو تو خلیج بنگال میں جانے دیں گے مگر اس کے ساتھ آنے والی مٹی ان ڈیمز کی دیواروں کے پیچھے جمع ہوتی رہے گی اور اس طرح وقت گزرنے کے ساتھ اس میں اضافہ ہو گا اور یہ ٹھوس زمین کی شکل اختیار کر لے گی۔ ماہرین کے مطابق اس طرح اس قدر زمین حاصل ہو سکتی ہے کہ جہاں لوگوں کو آباد کیا جا سکے گا۔
بنگلہ دیش کے آبی وسائل کے وزیر انیس الاسلام کے مطابق حکومت کو امید ہے کہ اس منصوبے کے تحت اگلے 20 برسوں کے دوران مجموعی طور پر 10 ہزار مربع کلومیٹر زمین حاصل کی جا سکے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…