ہفتہ‬‮ ، 21 مارچ‬‮ 2026 

امریکی طالبہ کی ڈگری برائے فروخت

datetime 5  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ایک امریکی خاتون اشیاء کی خرید و فروخت کی ویب سائٹ ‘ای بے’ پر اپنی گریجویشن کی ‘ڈگری’ اور چار سالہ ‘تجربہ’ فروخت کر رہی ہے۔فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کی طالبہ اسٹیفنی ریٹر نے گریجویش کے بعد ملنے والی ملازمت سے غیر مطمئین ہو کر اپنا چار سالہ تھیٹر کا ڈپلومہ فروخت کرنے کے لیے ’ای بے‘ پر اشتہار دیا ہے۔ ویب سائٹ نیوز فیڈ کے مطابق، اسٹیفنی نے 2011 میں تھیٹر میں ڈپلومہ کیا تھا ، اور وہ اب تک بطور ایک اسسٹننٹ کے ملازمت کر رہی ہے، جب کہ اس کا تعلیمی قرضہ 40 ہزار ڈالر ہے۔اسٹیفنی نے ذرائع کو بتایا کہ ایک دن جب میں اپنے کمرے کی صفائی کر رہی تھی، تو مجھے اپنا ہائی اسکول،کالج کی سند اور یونیورسٹی کا ڈپلومہ ملا، میں نے سوچا کہ کاغذ کا یہ ٹکڑا بہت سے لوگوں کے لیے قیمتی ہو گا لیکن میرے لیے تھیٹر کی ڈگری کے ساتھ اس شہر میں ملازمت کے مواقع ملنے کے امکانات کم ہیں لہذا ، میں نے اپنی ڈگری کو بیچنے کا فیصلہ کر لیا کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ تھیٹر کیا ڈپلومہ کی اہمیت کم نہیں ہے۔فیڈرل ریزرو بنک آف نیویارک کی ایک حالیہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ صرف 27 فیصد گریجویٹ طلبہ اپنی ڈگری سے متعلق ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔اس طرح کی صورت حال میں بہت سے گریجویٹ حد درجہ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر جب وہ دیکھتے ہیں کہ انھوں نے اپنی ڈگری پر کتنا خرچ کیا تھا، جس کی وجہ سے وہ ہزاروں ڈالر کے قرضوں میں ڈوب گئے ہیں۔ ای کامرس کی ویب سائٹ ’ای بے‘ پر اپنے اشتہار میں اسٹیفنی نے لکھا ہے کہ وہ اپنا فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کی ڈگری 50 ہزار ڈالر میں فروخت کر رہی ہے اور 10 ہزار ڈالر اس میں قرضے کے علاوہ ہیں، جو وہ اپنے چار سالہ تجربے کے بدلے میں وصول کرنا چاہتی ہے۔ اسٹیفنی نے اشتہار میں اپنے تجربے کے حوالے سے تفصیل بیان کی ہے، جس میں یونیورسٹی کا دورہ شامل ہے، اس کے علاوہ یونیورسٹی کے فیس بک اور یونیورسٹی کی تمام یادوں کے ریکارڈ تک رسائی شامل ہے۔علاوہ ازیں اسٹیفنی اتوار سے جمعرات تک صبح سات بجے سے رات دس بجے تک ڈگری کے خریدار کے ساتھ براہ راست اپنی یادیں اور تجربہ شیئر کرنے کے لیے بھی تیار ہے اور ساتھ ہی وہ کرائے کی کار میں ڈگری خریدنے والے طالب علم کو شہر گھومانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔اسٹیفنی نے کہا کہ کالج کے بعد یونیورسٹی میں داخلہ لینے والے طلبہ کو قرضے کے حوالے سے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیئے۔ اپنی موجودہ صورت حال سے پریشان ہونے کے باوجود، وہ دوبارہ سے یونیورسٹی میں داخلہ لینا چاہتی ہے، لیکن اس بار وہ ایک ایسے شہر کی یونیورسٹی میں پڑھنا چاہتی ہے، جہاں ملازمت کے مواقع زیادہ ہیں، تاکہ وہ اپنے اخراجات کو باآسانی برداشت کر سکے۔اسکالر شپ کے بارے میں اسٹیفنی نے کہا کہ طلبہ کو یونیورسٹی سے قرضہ لینے سے پہلے علاقے کے مخیر افراد سے اسپانسر شپ کے لیے خط وکتابت کرنی چاہیئے، اگرچہ سننے میں یہ بات مضحکہ خیز لگتی ہے لیکن میرے کچھ دوستوں نے ایسا کیا تھا اور وہ کامیاب بھی ہوگئے۔اسٹیفنی نے کہا کہ اگر وہ اپنی ڈگری بیچنے میں ناکام ہو گئیں تو، چاہیں گی کہ کوئی مخیر آدمی انھیں اسپانسر کر دے، اور اگر یہ نہیں ہو سکا تو وہ پچیس سال تک قرضے کی کم از کم اقساط جمع کرائی گی اور امید کرتی ہے کہ ایک دن حکومت اس پر ترس کھا کر خود ہی اس کا قرض معاف کر دے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…