بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

چون برس بعد سفارتخانے کھول دے گئے

datetime 20  جولائی  2015 |

واشنگٹن (نیوزڈیسک)گزشتہ نصف صدی کی سرد جنگ اور دشمنی کے بعد امریکا اور کیوبا نے نے باقاعدہ طور پر سفارتی تعلقات بحال کرتے ہوئے ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں سفارتخانے کھول دیے ہیں۔آج چون برس بعد کیوبا اور امریکا کے مابین باقاعدہ طور پر سفارتی تعلقات بحال ہو گئے ہیں۔ اس تاریخی پیش رفت کو امریکی صدر باراک اوباما کی میراث قرار دیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ایک دوسرے کے جانی دشمن امن کی جانب بڑھے ہیں۔ صرف چند مہینوں میں فریقین نے کلہاڑیاں پھینکتے ہوئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔واشنگٹن کے رویے میں یہ تبدیلی اس وقت آئی، جب یہ محسوس کیا گیا کہ کمیونسٹ کیوبا کے خلاف سخت تجارتی پابندیوں اور اسے تنہا کرنے کی امریکی پالیسی ناکام ہو چکی ہے جبکہ ہوانا حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنا وہاں جمہوریت کے قیام اور خوشحالی کے لیے زیادہ بہتر طریقہ ہے۔سن 1961ء کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب ہی واقع ہوانا حکومت کے سفارتخانے کی عمارت پر کیوبا کا پرچم لہرایا گیا ہے۔ اسی طرح ایک دوسری تاریخی پیش رفت کے طور پر آج امریکی وزیر خارجہ جان کیری اپنے کیوبا کے ہم منصب برونو رودریگز کا استقبال کریں گے اور یہ دونوں رہنما آج بین الاقوامی وقت کے مطابق شام پانچ بج کر پینتالیس منٹ پر مشترکہ پریس کانفرنس بھی کریں گے۔امریکی صدر باراک اوباما اور کیوبا کے رہنما راؤل کاسترو نے دونوں ملکوں کے مابین مفاہمتی پالیسی کا اعلان گزشتہ برس سترہ دسمبر کو کیا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ پانچ صدیوں سے تلخی کے شکار تعلقات کو معمول کی سطح پر لایا جائے گا۔ اس کے بعد دونوں ملکوں کے سفارتکاروں کے مابین واشنگٹن اور ہوانا میں متعدد ملاقاتیں ہوئیں اور آغاز کے سات ماہ بعد آج سفارتخانے کھول دیے گئے ہیں۔لیکن دونوں قوموں کے رہنماؤں نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف آغا ہے، عشروں پر محیط دشمنی کو صرف چند ماہ میں ختم کرنا مشکل ہے۔ جمعے کے روز امریکی وزیر خارجہ کے ایک ترجمان کا اعتراف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’’کچھ مسائل ایسے بھی ہیں، جن پر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر‘‘ بات نہیں کی جا سکتی۔امریکی تھینک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے تجزیہ کار ٹیڈ پیکن کہنا تھا، ’’امریکا سرد جنگ کی اپروچ کو ختم کرتے ہوئے تعمیری پیش رفت چاہتا ہے اور اسی طریقے سے کیوبا کے عوام کا با اختیار بنانے کی حمایت کی جا سکتی ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ کیوبا کو اپنی معاشی ترقی اور نئی غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے امریکا کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے لیے اب سب سے مشکل مرحلہ دو طرفہ اعتماد کی بحالی کا ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…