پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

پیلمائرا پر دولت اسلامیہ کے قبضے سے نایاب پرندہ معدوم ہونے کا خطرہ

datetime 25  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پیلمائرا پر دولت اسلامیہ کے قبضے سے نایاب پرندہ معدوم ہونے کا خطرہ، اطلاعات کے مطابق یہ یہ لمبی چونچ والا گنجے پرندے لق لق کی تعداد صرف چار رہ گئے ہیں۔ اسے عربی میں ابو منجل اور انگریزی میں ibis کہا جاتا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ پیلمائرا (تدمر) پر اسلامی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے قبضے کے بعد ایک لمبی چونچ والے گنجے نایاب پرندے کے معدوم ہوجانے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ سنہ 2002 میں لق لق نامی اس پرندے کی افزائش کی جگہ تدمر کے قریب ملی تھی جہاں پر چار پرندے موجود تھے۔ اس جگہ پر موجود پنجروں میں بند تین پرندے اس وقت بے یارو مددگار رہ گئے جب دولت اسلامیہ کی پیش قدمی پر وہاں مامور محافظ بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس وقت سے اب تک ان تین پرندوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ تدمر یا پیلمائرا کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ چوتھے پرندے کے بارے میں اطلاع دینے والوں کو ایک ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا۔ لبنان میں قائم سوسائٹی فار پروٹیکشن آف نیچر نے بات کرتے ہوئے کہا کہ مادہ پرندے کی تلاش بہت اہم ہے، جس کا نام زینوبیا رکھا گیا ہے۔ پیلمائرا کو رومن عہد میں بسایا گیا تھا ’صرف زینوبیا ہی کو موسم سرما گزارنے کے لیے ایتھیوپیا کا راستہ معلوم ہے اور اس کے بغیر باقی تین پرندوں کو آزاد نہیں کیا جا سکتا۔‘ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر زینوبیا کے بغیر تین پرندوں کو آزاد کیا گیا تو وہ شام کے ویرانوں میں کھو جاﺅں گے۔ لق لق کے بارے میں خیال ظاہر کیا جاتا تھا کہ اس خطے میں یہ معدوم ہو چکے ہیں۔ تاہم دس سال قبل تدمر میں سات پرندوں کی افزائش کی جگہ ملی۔ ان کے تحفظ کے باوجود یہ پرندے سات سے کم ہو کر چار رہ گئے۔ صرف زینوبیا ہی اس سال واپس آئی ہے۔ دوسرے تینوں پرندے اس سے علیحدہ رکھے گئے تھے اور ان کے بارے میں یہ علم نہیں کہ وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔ چار میں سے صرف ایک مادہ زینوبیا ہی کو ایتھوپیا کا راستہ معلوم ہے عراق کے اہم شہر رمادی پر قبضے کے فورا بعد شام کا شہر پیلمائرا بھی دولت اسلامیہ کے قبضے میں آ گیا۔ جدید شہر پیلمائرا کے نزدیک واقع عالی وراثت کے مقام پر دولت اسلامیہ کے قبضے پر عالمی برادری کو تشویش ہے۔ دولت اسلامیہ کے جنگجوو¿ں نے عراق کے بہت سے تاریخی مقامات کو تباہ کیا ہے جن میں نمرود کا قدیمی شہر بھی شامل ہے جسے عراق کے آثار قدیمہ کے بڑے خزانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…