پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

سمندر میں پھنسے تارکین وطن کو بچانا ’پہلی ترجیح ہے، بان کی مون

datetime 23  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو غربت اور ایذارسائیوں کے باعث ترکِ وطن کرنے پناہ گزینوں کو بچانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔ ہفتے کو ویتنام کے شہر ہنوئی میں بان کی مون کا کہنا ہے کہ سمندر میں پھنسے ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن کو بچانا پہلی ترجیح ہونا چاہیے تاہم ان کا کہنا تھا کہ علاقائی حکومتوں کو اس انسانی بحران کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کے باعث یہ افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق بان کی مون کا کہنا انھوں نے حال ہی میں تھائی لینڈ، ملائشیا اور میانمر میں علاقائی رہنماو¿ں سے تبادلہ خیال کیا ہے اور اس ان سے اس عزم کا اظہار کیا کہ ’ان بنیادی مسائل کے حل کی جانب توجہ دیں جس کی وجہ سے لوگ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔‘بان کی مون کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میانمر پر 13 لاکھ آبادی پر مشتمل روہنجیا مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کے باعث بین الاقوامی دباو¿ بڑھ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انسانی زندگیوں کو بچانا اہم ہے لیکن انھیں دوبارہ ان خطرناک حالات میں واپس نہ بھیجنا بھی اہمیت کا حامل ہے۔سمندر میں پھنسے تارکین وطن کی تلاش اور انھیں بچانے کے ساتھ ساتھ ان کی دوبارہ آبادکای کی جائے۔ جنوب مشرقی ایشائی ممالک کو ان مسائل کے حل کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کے باعث ہزاروں کی تعداد میں بنگلہ دیشی اور میانمار سے روہنجیا برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے سمندری راستہ اختیار کیا۔بان کی مون کا کہنا تھا کہ وہ میانمر، ملائشیا اور تھائی لینڈ میں علاقائی رہنمائی سے ہنگامی صورتحال کے بارے میں تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ سمندر میں پھنسے تارکین وطن کی تلاش اور انھیں بچانے کے ساتھ ساتھ ان کی دوبارہ آبادکای کی جائے۔واضح رہے کہ پناہ گزینوں کے مسئلے پر تھائی لینڈ میں 29 مئی کو 15 ممالک کی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے تاہم میانمار کے صدارتی دفتر کے ڈائریکٹر ڑو ہتائے کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اس کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا اگر دعوت نامے میں ’روہنجیا‘ کا استعمال کیا گیا کیونکہ ان کا ملک روہنجیا کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…