منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

سمندر میں پھنسے تارکین وطن کو بچانا ’پہلی ترجیح ہے، بان کی مون

datetime 23  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو غربت اور ایذارسائیوں کے باعث ترکِ وطن کرنے پناہ گزینوں کو بچانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔ ہفتے کو ویتنام کے شہر ہنوئی میں بان کی مون کا کہنا ہے کہ سمندر میں پھنسے ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن کو بچانا پہلی ترجیح ہونا چاہیے تاہم ان کا کہنا تھا کہ علاقائی حکومتوں کو اس انسانی بحران کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کے باعث یہ افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق بان کی مون کا کہنا انھوں نے حال ہی میں تھائی لینڈ، ملائشیا اور میانمر میں علاقائی رہنماو¿ں سے تبادلہ خیال کیا ہے اور اس ان سے اس عزم کا اظہار کیا کہ ’ان بنیادی مسائل کے حل کی جانب توجہ دیں جس کی وجہ سے لوگ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔‘بان کی مون کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میانمر پر 13 لاکھ آبادی پر مشتمل روہنجیا مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کے باعث بین الاقوامی دباو¿ بڑھ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انسانی زندگیوں کو بچانا اہم ہے لیکن انھیں دوبارہ ان خطرناک حالات میں واپس نہ بھیجنا بھی اہمیت کا حامل ہے۔سمندر میں پھنسے تارکین وطن کی تلاش اور انھیں بچانے کے ساتھ ساتھ ان کی دوبارہ آبادکای کی جائے۔ جنوب مشرقی ایشائی ممالک کو ان مسائل کے حل کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کے باعث ہزاروں کی تعداد میں بنگلہ دیشی اور میانمار سے روہنجیا برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے سمندری راستہ اختیار کیا۔بان کی مون کا کہنا تھا کہ وہ میانمر، ملائشیا اور تھائی لینڈ میں علاقائی رہنمائی سے ہنگامی صورتحال کے بارے میں تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ سمندر میں پھنسے تارکین وطن کی تلاش اور انھیں بچانے کے ساتھ ساتھ ان کی دوبارہ آبادکای کی جائے۔واضح رہے کہ پناہ گزینوں کے مسئلے پر تھائی لینڈ میں 29 مئی کو 15 ممالک کی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے تاہم میانمار کے صدارتی دفتر کے ڈائریکٹر ڑو ہتائے کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اس کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا اگر دعوت نامے میں ’روہنجیا‘ کا استعمال کیا گیا کیونکہ ان کا ملک روہنجیا کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…