مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد سامنے آگئے،رپورٹ

  اتوار‬‮ 2 اکتوبر‬‮ 2022  |  17:53

شیفیلڈ(این این آئی) ایک نئی تحقیق میں سائنسدانوں کے ہاتھ ایسے نئے شواہد آئے ہیں جو مریخ میں مائع پانی کی موجودگی کے امکانات کے متعلق بتاتے ہیں۔یونیورسٹی آف کیمبرج کی رہنمائی میں کی جانے والی تحقیق میں پہلی بار ایسے شواہد سامنے آئے جن کیمطابق مریخ کے جنوبی قطب میں برف کے نیچے مائع پانی موجود ہے۔یونیورسٹی آف شیفیلڈ سے تعلق رکھنے والے

تحقیق کے دوسرے مصنف ڈاکٹر فرانسس بْچر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ تحقیق مریخ پر مائع پانی کی موجودگی کے حوالے سے بہترین اشارہ دیتی ہے کیوں کہ زمین پر گلیشیئر کے نیچے موجود جھیلوں کو ڈھونڈنے کے لیے جن دو اہم اشاروں کو دیکھا جاتا ہے، وہ مریخ پر پائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اتنے ٹھنڈے درجہ حرارت میں مائع حالت میں رہنے کے لیے جنوبی قطب کے نیچے موجود پانی کو انتہائی نمکین ہونے کی ضرورت ہوگی، جس کے سبب اس میں کسی مائیکروبائل کی زندگی مشکل ہوگی۔تاہم، یہ چیزسائنس دانوں کو پْر امیدکرتی ہے کہ ماضی میں جب یہاں کا موسم کم مشکل ہوگا تو یہاں زندگی کے قابل زیادہ ماحول ہوتے ہوں گے۔بین الاقوامی تحقیقی ٹیم، جس میں فرانس کی یونیورسٹی آف نونٹ اور آئرلینڈ کی یونیورسٹی کالج ڈبلن کے محققین بھی شامل تھے، نے آئس کیپ کے اوپر کی سطح کی اسپیس کرافٹ لیزر ایلٹی میٹر پیمائشوں کا استعمال کیا۔جس کے بعد محققین نے بتایا کہ یہ اشکال کمپیوٹر ماڈل کی ان پیش گوئیوں سے مشابہت رکھتی ہیں جن میں بتایا گیا کہ آئس کیپ کے نیچے موجود پانی کس طرح سطح کو متاثر کرتا ہے۔مریخ کے قطبین پر زمین کی طرح پانی کے برف کی موٹی تہہ ہیں۔ جن کا کْل حجم اندازاً گرین لینڈ کی برف کی چادر کے برابر ہے۔



زیرو پوائنٹ

اہل لوگوں کی قدر کریں

میرے گھر سے50 میٹر کے فاصلے پر ایک واکنگ ٹریک ہے‘ میں وہاں روزانہ واک کرتا ہوں‘ میرے ساتھ سیکٹر کے بے شمار لوگ‘ جوان‘ خواتین اور بچے بھی واک کر رہے ہوتے ہیں‘ یہ جگہ دو سال پہلے تک اجاڑ بیابان ہوتی تھی‘ انسان تو کیا جانور تک یہاں نہیں آتے تھے لیکن پھر دو سال پہلے یہاں تبدیلی ....مزید پڑھئے‎

میرے گھر سے50 میٹر کے فاصلے پر ایک واکنگ ٹریک ہے‘ میں وہاں روزانہ واک کرتا ہوں‘ میرے ساتھ سیکٹر کے بے شمار لوگ‘ جوان‘ خواتین اور بچے بھی واک کر رہے ہوتے ہیں‘ یہ جگہ دو سال پہلے تک اجاڑ بیابان ہوتی تھی‘ انسان تو کیا جانور تک یہاں نہیں آتے تھے لیکن پھر دو سال پہلے یہاں تبدیلی ....مزید پڑھئے‎