اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

شناختی کارڈ کی تجدید کرانے دفتر جانیوالے شخص نے جب اپنا ریکارڈ دیکھا تو اس کے پائوں سے زمین نکل گئی

datetime 10  جنوری‬‮  2017 |

قاہرہ(این این آئی)مصر میں ایک شخص اپنے شناختی کارڈ کی تجدید کے لیے گیا تو متعلقہ حکام نے تجدید سے انکار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ وہ شخص ایک سال قبل فوت ہو چکا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ واقعہ مصر کے جنوبی صوبے المنیا کے ایک گاؤں “اسمنت” کے رہائشی مصطفی عبداللطیف کے ساتھ پیش آیا۔ سات برس گزر جانے پر شناختی کارڈ کی میعاد ختم ہونے کے سبب مصطفی اپنے علاقے میں محکمہ کے پاس گیا تاکہ اپنے کارڈ کی تجدید کرا سکے۔ تاہم وہاں موجود اہل کاروں نے یہ کہہ کر اس کے کارڈ کی تجدید سے انکار کر دیا کہ ان کے ریکارڈ کے مطابق وہ اس دنیا سے جا چکا ہے۔
مصطفی یہ سن کر غصے سے بپھر گیا اور اس نے اہل کار کو بتایا کہ وہ اس وقت زندہ سلامت کھڑا ہے ایسے میں اسے کس طرح متوفی شمار کر لیا گیا ؟مصطفی نے اہل کار سے مطالبہ کیا کہ وہ مصطفی کا ڈیتھ سرٹفکیٹ جاری کرے تاکہ اہل کار کی بات کی تصدیق ہو جائے۔ تاہم ریکارڈ کی جانچ پر معلوم ہوا کہ اندراج کی گئی معلومات میں غلطی ہو گئی۔ ڈیتھ سرٹفکیٹ پر 25 نومبر 2015 کی تاریخ درج تھی اور اس میں متوفی شخص کو رنڈوا لکھا گیا تھا جب کہ مصطفی شادی شدہ اور پانچ بچوں کا باپ ہے۔
اس کے علاوہ مذکورہ فوتگی کا واقعہ اسماعیلیہ کے علاقے میں ہوا تھا جہاں مصطفی زندگی میں کبھی نہیں گیا۔مصطفی نے بتایا کہ متعلقہ اہل کار اس کی بات سے قائل نہ ہوا جس پر مصطفی اپنی مدد کے لیے انسانی حقوق کے ایک مرکز چلا گیا۔مصطفی کے مطابق ذمے دار سرکاری اداروں نے اس سے ہر وہ چیز طلب کی جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ ہی مصطفی عبداللطیف علی عبدالرحمن ہے۔ مصطفی نے کامیابی کے ساتھ تمام تر مطلوبہ کاغذات پیش کر دیے۔
المنیا میں سِول اسٹیٹَس کے محکمے نے معاملے کو اسماعیلیہ بھیج دیا جہاں سے فوری جواب موصول ہوا کہ “ریکارڈ میں درج معلومات کو اسی طرح باقی رکھا جائے اور مدعی پر لازم ہے کہ وہ عدلیہ سے رجوع کرے۔اس صورت حال پر مصطفی حیران رہ گیا۔ اب اس نے باور کرایا ہے کہ وہ خود کو زندہ ثابت کرنے کے لیے تمام ذمے داران کے پاس جائے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…